Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
51 - 531
(6253)…حضرتِ سیِّدُناابوذَرغفاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:ہم صرف دو متعہ ہی جانتے ہیں جو خاص ہمارے لئے تھے یعنی متعَۂ نساء(1)اور متعَۂ حج۔(2)
(6254)…حضرتِ سیِّدُناابوموسٰی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اور حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو  دین کی تبلیغ کے لئے یمن بھیجا گیا تھا۔

٭…٭…٭…٭…٭…٭

حضرت سیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےمروی ہےکہ حضورنبی پاک،صاحِبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:جس شخص نے دنیامیں اپنے بچےکوقرآن پڑھنا سکھایاتوبروزِقیامت جنت میں اس شخص کوایک تاج پہنایاجائےگاجس سےاہْلِ جنت جان لیں گےکہ اس شخص نےدنیامیں اپنےبیٹے کوتعلیم دلوائی تھی۔ (معجم اوسط،۱/ ۴۰،حدیث:۹۶)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…متعہ کے لغوی معنی ہیں نفع اسی سے ہے تمتع کرنایہ اسلام میں دو بار حلال ہوا، دوبار حرام،چنانچہ فتح خیبر سے کچھ پہلے یہ حلال رہا اور خیبر کے دن حرام کردیا گیا پھر فتح مکہ کے سال جنگِ اوطاس سے کچھ پہلے تین دن کے لیے حلال کیا گیاپھر ہمیشہ کے لیے حرام کردیا گیا۔(مراٰۃ المناجیح،۵/ ۳۴)
متعَۂ نساء یعنی عورتوں سے عارضی نکاح کرنا۔ اس کی حرمت کے متعلق سیِّدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمدرضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن حدیث مبارکہ بیان فرماتے ہیں:حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے ہے:متعہ ابتدائے اسلام میں تھا مرد کسی شہر میں جاتا جہاں کسی سے جان پہچان نہ ہوتی تو کسی عورت سے اُتنے دنوں کے لیے عقد (نکاح) کرلیتا جتنے روز اس کے خیال میں وہاں ٹھہرنا ہوتا، وہ عورت اس کے اسباب کی حفاظت اُس کے کاموں کی درستی کرتی، جب یہ آیت شریفہ نازل ہوئی:اِلَّا عَلٰۤی اَزْوٰجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیۡمٰنُہُمْ (پ۱۸،المؤمنون:۶)کہ سب سےاپنی شرمگاہیں محفوظ رکھوسوابی بیوں اور کنیزوں کے، اس دن سے ان دو کے سوا جو فرج ہے وہ حرام ہوگئی۔(فتاوی رضویہ، ۱۱/ ۳۵۰)
	نوٹ:مزید تفصیل کے لئے فتاوٰی رضویہ سےمذکورہ مقام کامطالعہ کیجئے۔
2…متعَۂ حج:یکم شوال سے دس ذی الحجہ میں عمرہ کرکے وہیں سے حج کا احرام باندھے۔ اسے تمتع کہتے ہیں(اس کا حکم اب بھی باقی ہے)(ماخوذازفتاوی رضویہ، ۱۰/ ۸۱۴)حج تمتع کے متعلق مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1250 صفحات پر مشتمل کتاب بہارشریعت، جلد1، حصہ6، صفحہ1157 تا1161 کا مطالعہ کیجئے۔