آواز میں پڑھیں گےلیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّبروز قیامت ان پرنظْرِرحمت نہیں فرمائے گااور کچھ لوگ خود کو سیاہی سے رنگیں گےبروز ِقیامت اللہعَزَّ وَجَلَّان پر بھی نظْرِ رحمت نہیں فرمائے گا۔
(7557)… حضرتِ سیِّدُنایزیدبن قُوذَررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا کعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:کون ہے جوقرآنِ پاک کو اپنی آواز سے زینت دے۔
اچھی آواز سے قرآن پڑھنے کا انعام:
(7558)…حضرتِ سیِّدُناابوعلیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا کعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:جس نےدنیامیں اچھی آوازکےساتھ قرآنِ پاک پڑھااللہ عَزَّ وَجَلَّبروزِقیامت اُسے موتیوں یازبرجد کا خیمہ عطا فرمائے گااور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے جنت میں اتنی اچھی آواز عطافرمائےگا کہ اہْلِ جنت اُسے سننے کے لئے اس کی ملاقات کو آئیں گے۔
سبقت لےجانےوالے:
حضرتِ سیِّدُناابوعلیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا کعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّاراس فرمانِ باری تعالیٰ:
وَ السّٰبِقُوۡنَ السّٰبِقُوۡنَ ﴿۱۰﴾ۙ (پ۲۷،الواقعة:۱۰) ترجمۂ کنز الایمان:اورجوسبقت لےگئےوہ توسبقت ہی لے گئے۔
کی تفسیرکرتےہوئےفرمایا:سبقت لے جانے والے وہ ہیں جو قرآن کی تلاوت اور اس کے اَحکامات پر عمل کرنے والےہیں۔
اَللہُ اَکْبَرکہنےکی فضیلت:
(7559)…حضرتِ سیِّدُناکعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:جب کوئی بندہاَللہُاَکْبَرکہتاہےتوزمین وآسمان میں جوکچھ ہےوہ اس سےبھر جاتا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……جب اونٹ تھک جاتا ہے تو خوش آوازی سے اسے گانا سنایاجاتا ہے جس سے مست ہوکر خوب تیز دوڑتا ہے اس گانے کو حُدِی اور گانے والے کو حاد کہتے ہیں۔(مراٰۃ المناجیح،۶/۴۴۲)