Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
503 - 531
ملَکُ الموتعَلَیْہِ السَّلَامربّعَزَّ  وَجَلَّکی بارگاہ میں حاضرہوکرعرض گزارہوئے:اےمولیٰعَزَّ  وَجَلَّ!تونے مجھے اس  شخص کی روح قبض کرنےکےلئےبھیجا ہے جس کےبعداہْلِ زمین کےلئے کوئی خیرنہ ہوگی۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ارشادفرمایا:میں اپنے بندے کے حال کو تم سےبہترجانتا ہوں،لہٰذاتم جاؤاوران کی روح قبض کرلو۔چنانچہ آپ بیمارحالت میں جھکتے ہوئے آئے تو حضرتِ سیِّدُناابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامانہیں باغ میں لے گئے، وہاں آپ انگورکھانےلگےتوسیِّدُناابراہیمعَلَیْہِ السَّلَامنےپوچھا:آپ کی عُمْرکتنی ہے؟ جواب دیا:ابراہیم کی عُمْرکےمقابلے میں  اتنی اتنی ہوگی۔اسی دوران حضرتِ سیِّدُناابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو موت کی شدید تمنا ہوئی  توملَکُ الموت نے انہیں ایک پھول سونگھایا  جس سےان کی روح قبض ہو گئی۔
عقل کی دانائی،حکمت کانوراورعلم کاسرچشمہ:
(7553)…حضرتِ سیِّدُنامُغِیثرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا کعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:(تلاوتِ)قرآن کوخودپرلازم کرلوکیونکہ یہ عقل کی دانائی،حکمت کانوراورعلم کاسرچشمہ ہے اوریہ رحمٰن عَزَّ  وَجَلَّکےساتھ کئےگئےعہدکوسب سےزیادہ بیان کرنےوالی کتاب ہے۔
خود پسندی ہلاکت ہے:
(7554)…حضرتِ سیِّدُنایزیدبن قُوذَررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا کعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارکی خدمت میں احادیث کی چاہت رکھنے والاایک شخص حاضرہواتوآپ نےاس سے فرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّسےڈرو،مجلس میں کم مرتبہ والی جگہ پرراضی  رہواورکسی کوایذانہ دوکیونکہ اگرتم خودپسندی کرتےہوئے اپنےعلم سےزمین وآسمان کوبھردوتو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس میں  پستی اور  کمی پیدا فرمادے گا۔ اس شخص نےعرض کی:اےابواسحاق!اللہ عَزَّ  وَجَلَّآپ پررحم فرمائے،ایسا کرنے سےتو لوگ میری تکذیب کریں گےاور مجھے تکلیف پہنچائیں گے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:انبیائےکرامعَلَیْہِمُ السَّلَام کی بھی تکذیب کی گئی اور انہیں ایذائیں دی گئیں، انہوں نے صبر کیا لہٰذاتم بھی صبرکروورنہ خود پسندی تمہارے لئےہلاکت ہے۔ 
انمول فرامین:
(7555)… حضرتِ سیِّدُنا کعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں: