Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
501 - 531
جائیں گےپھر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ انہیں داخِلِ جنت کرنے کا حکم فرمائےگا ،ان کی پیشانیوں پر لکھا ہو گا:یہ اُمَّتِ محمدیہ کےوہ جہنمی ہیں جنہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے اپنی رحمت سےآزادفرمایا ہے۔وہ اسی نشانی سے اہْلِ جنت میں پہچانے جائیں گےپھروہاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی بارگاہ میں گڑگڑا کردعاکریں گے کہ وہ اس علامت کو مٹا دے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے مٹا دے گا،اس کے بعد جنتیوں میں اس  علامت  سےنہیں  پہچانے جائیں گے۔
(7547)…حضرتِ سیِّدُناکعب الاحبار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّاراس فرمانِ باری تعالیٰ:
اِنَّ اِبْرٰہِیۡمَ لَاَوّٰہٌ  (پ۱۱،التوبة:۱۱۴)	
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک ابراہیم ضرور بہت آہیں کرنے والا ہے۔
	کی تفسیرمیں فرماتےہیں:جب حضرتِ سیِّدُناابراہیم خَلِیْلُاللہعَلَیْہِ السَّلَامکےپاس جہنم کاذکرکیاجاتا تو آپ جہنم کے خوف سےبہت آہیں بھرا کرتے تھے۔
جہنمی آگ کی شدت:
(7548)…حضرتِ سیِّدُناعبدُاللہبن عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتےہیں کہ  ایک شخص نےحضرتِ سیِّدُنا عُمَرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکےپاس یہ آیتِ طیبہ تلاوت کی:
کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوۡدُہُمْ بَدَّلْنٰہُمْ جُلُوۡدًا غَیۡرَہَا لِیَذُوۡقُوا الْعَذَابَ  (پ۵،النساء:۵۶)	
ترجمۂ کنز الایمان:جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کےسوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گےکہ عذاب کامزہ لیں۔
	توآپ نےفرمایا:دوبارہ تلاوت کرو،حضرت کعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّاربھی وہاں موجودتھے، انہوں نےکہا:امیرالمؤمنین!مجھے اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر معلوم ہے،میں  نےیہ اسلام لانےسےپہلےپڑھی تھی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا:اےکعب!ہمیں بھی وہ تفسیر بتاؤ،اگر تم نےوہی تفسیر سنائی جوہم نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنی ہے تو ہم تمہاری تصدیق کریں گےورنہ ہم اس پرنظربھی نہیں کریں گے۔چنانچہ انہوں نے بیان کیاکہ میں نے اسلام لانے سے پہلے اس کی تفسیر یہ پڑھی  تھی کہ جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی توہم ان کی کھالیں بدل دیں گےاورایساایک لمحےمیں120مرتبہ ہوگا۔حضرتِ سیِّدُناعُمَرفاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا:ہم نےبھیرسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ایسا ہی سنا ہے۔