اپنےان امتیوں کی شفاعت کیجئےجنہیں جہنم میں جانےکاحکم دیاجاچکاہے۔اتنےمیں جھڑکنےوالی کرخت آواز آئےگی:اے مالک!تمہیں کس نے کہا کہ ان بدنصیبوں سے گفتگو کرکےعذاب میں داخل کرنے سے رکو۔ اے مالک!ان کے چہروں کو سیاہ نہ کرناکیونکہ یہ دنیامیں سجدےکیاکرتےتھے۔اے مالک!انہیں طوق نہ پہنانا کیونکہ دنیامیں غسْلِ جنابت کیا کرتے تھے۔اے مالک! ان کےپاؤں میں بیڑیاں نہ ڈالنا کیونکہ یہ لوگ میرے گھر کا طواف کیا کرتے تھے۔اے مالک!انہیں تارکول کا لباس نہ پہناناکیونکہ انہوں نے احرام کے لئےدنیامیں اپنےکپڑےاتارےتھےاورآگ سےکہہ دوکہ ان کی زبانوں کونہ جلائےکیونکہ یہ دنیامیں تلاوتِ قرآن کیاکرتےتھے۔اے مالک!آگ سےکہہ دوکہ انہیں ان کے اعمال کے مطابق ہی سزا دے۔آگ ان کےاعمال اورسزا کی مقدارکو اس طرح جانتی ہوگی جس طرح ایک ماں اپنے بچے کو پہچانتی ہے۔
چنانچہ آگ کچھ لوگوں کےٹخنوں تک پہنچےگی،کچھ کے گھٹنوں تک ،کچھ کے ناف تک اورکچھ کے سینوں تک۔جب اللہ عَزَّ وَجَلَّانہیں ان کےگناہوں،نافرمانیوں اوران پرڈٹےرہنےکی سزادےچکےگاتوان کےاورمشرکین کے درمیان بنددروازہ کھول دیا جائے گا تو وہ خودکو جہنم کے سب سے اوپر والے طبقے میں پائیں گے،اس میں کسی طرح کی ٹھنڈک ہو گی نہ کچھ پینے کو ملے گا،وہ روتےہوئےپکاریں گے: وَامُحَمَّدَاہ! (یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مدد فرمایئے!)اپنی امت کے بدنصیبوں پررحم فرمائیےاور ان کی شفاعت کیجئےکہ آگ نےان کےگوشت،خون اورہڈیوں کوکھالیاہے،پھراللہعَزَّ وَجَلَّکوپکاریں گے:اےہمارےربّ عَزَّ وَجَلَّ!اےہمارےبادشاہ!اس پررحم فرماجس نےدنیامیں تیرےساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا اگر چہ گناہ ونافرمانی کی اورتیری حدیں توڑیں۔اس وقت مشرکین ان سےکہیں گے:اب تمہیںاللہورسولعَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپرایمان لانابھی نہیں بچاسکتا۔
ان کی اس بات پراللہ عَزَّ وَجَلَّغضب فرمائےگااورحضرت جبرائیلعَلَیْہِ السَّلَامکوحکم دےگا:اے جبریل! جاؤ اور اُمَّتِ محمدیہ کوآگ سے نکال دو۔چنانچہ جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَامانہیں وہاں سے گروہ در گروہ نکال لیں گے،ان کی کھالیں جل چکی ہوں گی توجبریل عَلَیْہِ السَّلَام انہیں جنت کے دروازے پربہنے والی نہر میں غوطہ دیں گےاسے نہر حیات کہا جاتاہے۔جب وہ اس میں کچھ دیر ٹھہر کر نکلیں گے تو پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو