Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
496 - 531
 طرح روشن ہوگا۔حضرتِ سیِّدُناہَمّامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میرے خیال سے انہوں نے چودھویں کا چاندکہاتھا۔ بہرحال جب وہ آگےبڑھےگاتواس دیکھنے والاہرگروہ کہےگا:اےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ!اسےہم میں شامل فرمادے۔وہ آگےبڑھتا رہے گا حتّٰی کہ نیکی  کے کاموں میں مُعاوَنَت کرنے والے ساتھیوں سےآکرکہےگا:اے فلاں!تمہیں مُبارَک ہو! اللہ عَزَّ  وَجَلَّنےتمہارےلئے جنت میں یہ یہ اِنعامات تیارکررکھے ہیں اوراےفلاں! تمہارےلئے بھی  یہ یہ اِنعامات ہیں۔وہ انہیں یہ خبریں دےرہاہوگااوران کے چہرے بھی اس  کی طرح نورسے چمکنے لگیں گے۔اہْلِ محشر ان کےچہروں  کی نورانیت دیکھ کر  پہچان لیں گے اور کہیں گے: یہ سب جنتی ہیں۔
	پھربُرائی کے کاموں میں سربراہی کرنے والےشخص کو بلاکرکہا جائےگا: اپنے ربّعَزَّ  وَجَلَّ کو اپنے اعمال کاحساب  دےاوراسے بارگاہِ خداوندی  میں پیش کردیا جائے گا۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے اپنے دیدار سے محروم رکھے گااوراس شخص کے لئے جہنم کا حکم ہو گا،  وہ اپنےاور اپنے  ساتھیوں کے مقامات کو دیکھے گا،اسے بتایا جائے گا کہ یہ فلاں کامقام ہےاوروہ فلاں کا۔پھروہاللہ عَزَّ  وَجَلَّکےتیارکردہ ذِلَّت والےعذابات کودیکھےگااور اپنے مقام کو سب  ساتھیوں  سے بُرا پائے گا ،اس کا چہرہ سیا ہ اور آنکھیں نیلی ہوجائیں گی اور اس کے سرپر آگ کی ٹوپی رکھ دی  جائے گی،جب وہ آگے بڑھےگاتوجوجماعت اسےدیکھےگیاللہ عَزَّ  وَجَلَّسےپناہ مانگےگی،پھر بُرے کاموں میں ساتھ دینے والوں کے پاس آئے گااورانہیں جہنمی ٹھکانوں کے بارے میں  بتارہاہوگا حتّٰی کہ ان کے چہرے بھی اسی شخص کی طرح سیاہ ہو جائیں گے۔اہْلِ محشر ان کے چہروں کی سیاہی دیکھ کر ان کاانجام جان لیں گے اور کہیں گے: یہ سب جہنمی ہیں۔
جہنمی  تنور:
(7538)…حضرتِ سیِّدُناحُمَیْدبن ہِلالرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا کعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:جہنم میں  بہت سے تنورہیں،جن کی تنگی  تمہارےنیزوں  کےنچلے حصے میں  لگے لوہے کی مانند ہے، وہ لوگوں پر ان کے اعمال کے سبب  تنگ ہوں گے۔
بخدا!معاملہ بہت سخت ہے:
(7539)…حضرتِ سیِّدُناعبْدُالرحمٰن بن حاطِبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ