Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
493 - 531
سےفرمایا:ہمیں خوش کرو!حضرتِ سیِّدُناکعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار نےکہا:خوش ہو جائیے!کیونکہ رضائےالٰہی کےحصول کی 314راہیں ہیں جو کلمہ شہادت کی گواہی کے ساتھ ان میں سےکسی بھی راہ کواختیارکرلےگااللہ عَزَّ  وَجَلَّاسےجنت میں داخل فرمائےگااوراگرتم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی تمام رحمتیں جان لوتوعمل کےمُعامَلےمیں سُسْت ہوجاؤگے۔بخدا!اگرکوئی جنتی عورت(حور)آسمانِ دنیاسے رات کی تاریکی میں جھانکےتواس کی روشنی سے ساری  زمین مُنَوَّرہو جائے۔خداعَزَّ  وَجَلَّ کی قسم!اگرجنتیوں  کا کوئی لباس دنیا میں ظاہر کیا جائے تو جو اسے دیکھے بےہوش ہو جائے  اورنگاہیں اسے دیکھنے کی تاب نہ لا سکیں۔
جہنم کی دہشت:
(30-7529)…حضرتِ سیِّدُنامُطَرِّف بن عبدُاللہبن شِخِّیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا کعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارنے مجھے بتایاکہ میں امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں حاضرتھا،انہوں نےمجھ سےفرمایا:اےکعب!ہمیںاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا خوف دلاؤ۔میں  نے عرض کی:امیرالمؤمنین!کیا آپ کےپاساللہ عَزَّ  وَجَلَّکی کتاب اورحضورنبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حکمت بھری باتیں نہیں ہیں؟فرمایا:بالکل ہیں لیکن تم ہمیں خوف دلاؤ۔چنانچہ میں نےکہا:اے امیرالمؤمنین!
 آپ ایک فردجتناعمل کرتےرہئےکیونکہ اگرآپ قیامت کےدن70انبیائےکرامعَلَیْہِمُ السَّلَامجتنےبھی اعمال لے کر آئیں تو قیامت کے اَحوال دیکھ کر انہیں حقیرجانیں گے۔ یہ سن کر حضرتِ سیِّدُناعُمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےکچھ دیرکےلئےسرجھکالیا،جب افاقہ ہواتوفرمایا:اےکعب!مزیدکچھ بتاؤ۔میں نےکہا:اےامیرالمؤمنین! اگربیل کی ناک جتناجہنم کامنہ مشرق میں کھول دیا جائےتو اس کی گرمی  سےمغرب میں رہنے والے  کابھیجا  اُبل کر بہہ جائے۔یہ سن کرامیرالمؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےپھرکچھ دیرکے لئےسرجھکا لیا،جب افاقہ ہواتو فرمایا:اےکعب!اوربتاؤ۔میں نےکہا:اےامیرالمؤمنین!جہنم ایک دفعہ ایساچنگھاڑےگاکہ مُقَرَّب فرشتوں سمیت ہرنبی مرسَل زانوکے بل جھکے عرض کرےگا:رَبِّ نَفْسِی!نَفْسِی!یعنی اےاللہعَزَّ  وَجَلَّ!مجھے بخش دے، مجھے بخش دے۔حتّٰی کہ رب عَزَّ  وَجَلَّکےخلیل حضرتِ سیِّدُناابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام بھی گھٹنوں کے بل کھڑے ہو کر عرض کریں گے: ”نَفْسِيْ نَفْسِيْ لَا اَسْاَلُكَ الْيوْمَ اِلَّا نَفْسِيْیعنی مجھے بخش دے، مجھےبخش دے، آج میں تجھ سے فقط اپنی جان کا سوال کرتا ہوں۔“یہ سن کرحضرتِ سیِّدُناعُمَرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےپھرکچھ دیر کے