اےجہنم!اپنےاصحاب پکڑلےاورمیرےاصحاب کوچھوڑدےپھرجہنم میں جانےوالےاس میں گرنےلگیں گےوہ انہیں اس طرح پہچان لےگاجیسے کوئی باپ اپنےبیٹےکوپہچانتاہے،مومن اسےاس طرح پار کر لیں گےکہ ان کے کپڑوں پر کوئی نشان نہیں ہوگا۔
خوف اورامیدپرمشتمل بیان:
(7528)…حضرتِ سیِّدُناشُرَیْح بن عُبَیْدحَضْرَمِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبیان کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےحضرتِ سیِّدُناکعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارسےفرمایا:ہمیں خوف دلاؤ۔آپ نےبیان کیا:اللہ عَزَّ وَجَلَّکےکچھ فرشتےایسےہیں جوپیداہونےسےلےکراب تکاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں قیام کئے ہوئے ہیں،انہوں نے کبھی اپنی پیٹھ نہیں جھکائی، کچھ ایسے ہیں جو رکوع میں ہیں انہوں نے اب تک پیٹھ نہیں اٹھائی اور کچھ ایسے ہیں جو سجدوں میں ہیں انہوں نے کبھی اپنےسروں کو نہیں اٹھایا حتّٰی کہ جب پہلا صور پھونکا جائے گاتو وہ سب کہیں گے:اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!تجھے پاکی ہے اور تیرے ہی لئے حمد ہے،ہم تیری عبادت کا حق ادا نہ کر سکے۔پھرفرمایا:بخدا!اگرکسی نے70 انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکےبرابر عمل کیا ہوگاتو وہ اس دن کی سختی کو دیکھ کراپنے عمل کوتھوڑا سمجھےگا۔اللہعَزَّ وَجَلَّکی قسم!اگر جہنمیوں کےپیپ کاایک ڈول مشرق میں ڈال دیا جائے تومغرب میں رہنے والوں کابھیجا اُبل پڑےگا۔خداعَزَّ وَجَلَّ کی قسم!جہنم ایک دفعہ ایسا چنگھاڑے گاکہ مُقرَّب فرشتوں سمیت تمام مخلوق زانوکےبل گرکرکہےگی:رَبِّ نَفْسِیْ!نَفْسِیْ!یعنی اےاللہعَزَّ وَجَلَّ!مجھے بخش دے، مجھے بخش دے۔حتّٰی کہ ہمارےنبی(حضرتِ سیِّدُناموسٰی)،حضرتِ سیِّدُناابراہیم اورحضرتِ سیِّدُنااسحاقعَلَیْہِمُ الصَّلوٰۃُ والسَّلَام(1)کابھی یہی حال ہو گا۔یہ سن کر لوگ اتنا روئے کہ ہچکیاں بندھ گئیں،امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے لوگوں کی یہ حالت دیکھی توحضرتِ سیِّدُناکعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…حضرتِ سیِّدُناکعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّاریہودکےعالِم تھےچونکہ یہ پہلےحضرتِ سیِّدُنامُوسٰیعَلَیْہِ السَّلَامکی رسالت پر ایمان لائےبعدمیں حضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپرایمان لائےیہاں اسی لئےحضرتِ سیِّدُنامُوسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کے لئے ”نَبِیُّنا“کہا۔(علمیہ)