مومن کاگمشدہ خزانہ:
(24-7523)…حضرتِ سیِّدُناابُوسَلَمَہ صَنْعانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناکعب الاحبار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:کم بولناحکمت ہے،خاموشی اختیارکروکیونکہ یہ اچھی خصلت ہےاوراس سے بوجھ اور گناہ کم ہوتےہیں، بُردباری کےدروازےکوسنوارواوراس کادروازہ خاموشی اورصبرہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ زیادہ ہنسنے والےاور چغلخورکو پسند نہیں فرماتا اوروہ اس حکمران کو پسند کرتاہے جو چرواہے کی طرح ہو(یعنی رعایا کا محافظ ہو) اور اپنی رعایا سے غافل نہ ہو۔جان لو کہ حکمت مومن کا گمشدہ خزانہ ہےلہٰذاعلم حاصل کرواس سے پہلےکہ اسے اٹھا لیا جائے اور اس کا اٹھ جانا یہ ہے کہ عُلَما دنیا سے رُخصت ہو جائیں گے۔
نیک حکمران کارعایا پر اثر:
(7525)…حضرتِ سیِّدُناہِشامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناکعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:حکمران نیک ہو تو لوگ بھی نیک ہوجاتے ہیں اور حکمران بُرا ہو تو لوگ بھی بگڑ جاتےہیں۔
(7526)…حضرتِ سیِّدُناعبدُاللہبن دَیْلمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناکعب الاحبار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:لوگوں پرایک زمانہ ایساآئےگاکہ امانت کی پاسداری نہ رہےگی،رحمت اٹھالی جائے گی، مانگنے کی کثرت ہو گی اور جو اس زمانے میں مانگے گا اسے بَرکت نہیں دی جائے گی۔
پل صراط سے گزرنے کی کیفیت:
(7527)…حضرتِ سیِّدُناغُنَیْم بن قیسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُناکعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارنے یہ آیتِ مقدسہ تلاوت کی:
وَ اِنۡ مِّنۡکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا ۚ کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا ﴿ۚ۷۱﴾ (پ۱۶،مریم:۷۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گذر دوزخ پر نہ ہو تمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے۔
پھر فرمایا:تم جانتے ہو کہ دوزخ پر لوگوں کا گزرکس طرح ہوگا؟ پھر خود ہی فرمانے لگے: جہنم لوگوں پر ایسےظاہر ہو گا گویا چربی کی تَہ جمی ہے،جب نیک و بد کے قدم اس پر جَم جائیں گےتو ایک منادی ندا دےگا: