Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
490 - 531
(7518)…حضرتِ سیِّدُنا کعب الاحبار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:اس ذات کی قسم جس کےقبضَۂ قدرت میں میری جان ہے!میںاللہ عَزَّ  وَجَلَّکےخوف سےاتناروؤں کے میرےآنسو نکل کر رخساروں پر بہنے لگیں یہ مجھے سونے کاپہاڑ خیرات کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔
رحمت الٰہی پرامید:
(7519)…حضرتِ سیِّدُنامحمدبن زِیاد اَلْہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیبیان کرتےہیں:میں حضرتِ سیِّدُنا کعب الاحبار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارکی خدمت میں حاضرہوا،آپ بیمار تھے،کسی نےپوچھا:اےابو اسحاق!آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ فرمایا:میرےجسم کو اس کے گناہوں کی سزا دی جا رہی ہے،اگر اس حال میں روح قبض ہو گئی تو رحیم و کریم پروردگارعَزَّ  وَجَلَّ کی طرف جائے گا اور اگر اس نےشفاعطافرمائی تو میراجسم ایسا ہوجائےگا جیسےاس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں۔
(7520)…حضرتِ سیِّدُناعبدُاللہبن حارِثعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَارِثبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناکعب الاحبار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:زمین پرکسی بندے کی تعریف اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک آسمانوں میں نہ ہو جائے۔
کاش!میں مینڈھاہوتا:
(7521)…حضرتِ سیِّدُناشَہْربن حَوشَبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناکعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:کاش!میں اپنے گھروالوں کامینڈھا ہوتا وہ مجھے پکڑ کر ذبح کر تے پھر خود بھی کھاتے اور مہمانوں کو بھی کھلاتے۔
اپنےگھروں کوذکرِالٰہی سےمنورکرو:
(7522)…حضرتِ سیِّدُناابومحمدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَدبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا کعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:اپنے گھروں کوذکرِ الٰہی سےمنورکرواوراپنےگھروں میں بھی کچھ(نفل)نماز پڑھا کرو، اس ذات کی قسم جس کےقبضَۂ قدرت میں کعب کی جان ہے!ایسوں کانام زبان زَدِعام ہوتاہےاورآسمان والوں میں ان کی شہرت اس طرح ہوتی ہے کہ فلاں بن فلاں اپنے گھرکو خدا کے ذکر سے آباد کرتا ہے۔