عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّکےہاں بندےکوجب کوئی مقام ومرتبہ حاصل ہوتاہےتواس پر آزمائشیں بڑھتی جاتی ہیں،جوصدقہ ادا نہیں کرتا اس کا مال کم ہو جاتاہے اورجواداکرتا ہے اس کا مال بڑھ جاتا ہےاور جو شخص چوری کرتا ہے اس کا رزق روک لیا جاتا ہے۔
موت کی سختی:
(7514)…حضرتِ سیِّدُناعبدُاللہبن ابُومُلَیْکَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہےکہ ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےحضرتِ سیِّدُناکعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارسے فرمایا:ہمیں موت کےبارےمیں بتاؤ۔توآپ نےعرض کی:اےامیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ!موت ایک ایسی کانٹےدار ٹہنی کی مانندہےکہ جسےکسی آدمی کےپیٹ میں داخل کیاجائےاورہرکانٹاایک ایک رگ میں پیوست ہوجائے پھرکوئی طاقتورشخص اس ٹہنی کواپنی پوری طاقت سےکھینچےتواس ٹہنی کی زدمیں آنےوالی ہر چیزکٹ جائے اورجوزَدمیں نہ آئےوہ بچ جائے۔
(7515)…حضرتِ سیِّدُناابوخالدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناکعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:جودل سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکوپہچان کرزبا ن سےاس کی حمدکرتاہےتوابھی کلمات منہ میں ہی ہوتےہیں کہاللہعَزَّ وَجَلَّاسےبرکت عطافرمادیتاہےکیونکہاللہعَزَّ وَجَلَّبھلائی جلدعطا فرماتاہے اور فضل کرنے کا زیادہ حق دار ہے۔
خوفِ خدا میں رونے کی فضیلت:
(7516)…حضرتِ سیِّدُنااسماعیل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْلبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناکعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:جس شخص کی آنکھوں سےخوفِ خدا کےسبب سیْلِ اَشک رَواں ہوجائیں اوراس کے قطرے زمین پر گریں تو جہنم کی آگ اسےکبھی نہیں چھوئے گی حتّٰی کہ بارش کے قطرےآسمان سے زمین پر گریں اور پھر واپس آسمان کی طرف لوٹ جائیں(اور یہ ناممکن ہے)۔
(7517)…حضرتِ سیِّدُناکعب الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:خوفِ خدامیں رونےکےسبب آنسوؤں کا رخساروں پر بہنامجھےاپنےوزن کے برابرسونا خیرات کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔