فرماتاہے تودنیا کو اس سے دورکردیتاہےتاکہ اس کےجنتی درجات بلند فرمائےاورجب کسی نافرمان بندے پر ناراض ہوتا ہے تو اس کے لئے دنیا کشادہ کر دیتا ہےتاکہ اسے جہنم کے سب سےنچلےمقام میں پہنچا دے۔
مال داروں کےسردار:
فقر پر راضی رہتے ہوئے صبر کرنے والوں سےاللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرما تا ہے: خوش ہوجاؤ اور غم نہ کرو کیونکہ تمہارے لئے جو کچھ میرے پاس ہے اگر اس کے مقابلے میں دنیا کی حیثیت میرے نزدیک مچھر کے پر برابربھی ہوتی تو میں نافرمانوں کودنیاسے کچھ بھی نہ دیتا۔جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےفقیر بندے اس کی بارگاہ میں محتاجی کی شکایت کرتے ہیں تو ان سے کہا جاتا ہے:’’خوش ہوجاؤ اورغم نہ کروکہ تم مال دارں کےسردار ہواور قیامت کےدن ان سے پہلےجنت میں جاؤ گے۔‘‘حضرات انبیائےکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام راحت کی بَنِسْبَت فقراور مصائب میں زیادہ خوش ہوا کرتے تھےحالانکہ ان پرآزمائشیں دُگنی ہوتی تھیں حتّٰی کہ کسی کا انتقال جوؤں سے ہوجاتا تھااور جب وہ خود کو راحت میں دیکھتے تو یہ گمان کرتے تھےکہ شاید ان سے کوئی نافرمانی ہو گئی ہے۔
اللہعَزَّ وَجَلَّکےناپسندیدہ لوگ:
جس نےدنیاداراورمال دارکےلئےعاجزی اختیارکی اس نے اپنے دین کو کمزورکیااور اس سے فضیلت چاہی جو خودفضیلت والانہیں ہےحالانکہ اسے دنیاسےاتنا ہی ملےگاجتنااللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کےلئےمُقَدَّرفرما دیا،اللہ عَزَّ وَجَلَّخوب مال اِکَھٹّا کرنے والے،بھلائی میں خرچ نہ کرنے والےہرمتکبراورموٹےعالِم کوناپسند فرماتاہے۔
اگرآسمانی سلطنت کےطالب ہوتو۔۔۔!
حضرتِ سیِّدُنامُوسٰیکَلِیْمُاللہعَلَیْہِ السَّلَامنےلوگوں سےارشادفرمایا:تمہارے لباس راہبوں جیسےجبکہ دل سرکشوں اور بھوکے بھیڑیوں جیسےہیں،اگر تم آسمان کی سلطنت تک پہنچناچاہتےہوتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خاطر اپنےدلوں (یعنی نفسانی خواہشات)کو مار ڈالو۔
مال میں کمی اورزیادتی کاسبب:
(7513)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بنبُرَ یْدہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناکَعْبُ الاَحبار