Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
481 - 531
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزلوگوں کےدرمیان فیصلےکرنےکےلئے بیٹھےہوئےتھے،جب دوپہرکاوقت ہواتو آپ کواکتاہٹ،تھکاوٹ اور بے چینی ہونےلگی،آپ نے لوگوں سے فرمایا:میرے آنے تک بیٹھے رہنا۔یہ کہہ کر آپ کچھ دیرکے لئے آرام کر نے چلے گئے،آپ کے جاتے ہی آپ کے صاحبزادےحضرتِ سیِّدُنا عبْدُالملِکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہآئےاورلوگوں سے امیرالمؤمنین کےبارے میں پوچھا۔ لوگوں نےکہا: وہ اندر جا چکےہیں۔لہٰذاآپ اجازت لےکراندرداخل ہوئےاورعرض کی:امیرالمؤمنین!آپ یہاں کیوں آگئے؟فرمایا: تھوڑی دیر آرام کرنا چاہتاہوں۔بیٹےنےعرض کی:کیاآپ موت کے آنےسے بے خوف ہوگئے ہیں کہ آپ کی رعایا دروازے پر کھڑی آپ کاانتظارکررہی ہےاورآپ ان سےچُھپےبیٹھےہیں،یہ سن کرامیرالمؤمنین فورًا اُٹھے اورلوگوں کے پاس چلے گئے۔
ایک اَعرابی کی تعزیت: 
(7494)…حضرتِ سیِّدُنامحمدبن مالِک عَبْدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتےہیں کہ جب حضرتِ سیِّدُناعبْدُ الملِکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکاانتقال ہواتولوگ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزسےتعزیت کرنے آئے، بنوکِلاب کےایک اَعرابی نے ان سےتعزیت کرتےہوئے کہا:
تَعَزَّ اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ فَاِنَّهُ               		لِمَا قَدْ تَرٰى يُغْذَى الصَّغِيْرُ وَيُوْلَد
هَلِ ابْنُكَ اِلَّا مِنْ سُلَالَةِ اٰدَمٍ		لِكُلٍّ عَلٰى حَوْضِ الْمَنِيَّةِ مَوْرِد
	ترجمہ:تم امیرالمؤمنین سےاس لئےتعزیت کرتےہوکہ تم نےچھوٹے بچےکوپرورش پاتےاورپیدا ہوتے دیکھا ہے۔امیرالمؤمنین آپ کا بیٹاسیِّدُناآدمعَلَیْہِ السَّلَام کی اولاد ہے اور ہر اولادِآدم کوموت کے حوض سے پانی پینا ہے۔  
	یہ اشعارسن کرحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنےفرمایا:جیسی تعزیت اس اَعرابی نے کی ایسی کسی نے نہیں کی۔

حضرت سیِّدُناقتادہ بن دِعامہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:کسی شخص کااپنی اورلوگوں کی اصلاح کےلئے علم کاایک باب یادکرناسال بھرکی عبادت سےافضل ہے۔(حلیةالاولیاء،۲/ ۳۸۷،رقم:۲۶۶۶)