Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
480 - 531
امیرالمؤمنین کابیٹاعبْدُالملِکاللہ عَزَّ  وَجَلَّکےبندوں میں سےایک بندہ تھا،اللہ عَزَّ  وَجَلَّنےاس پراوراس کے باپ پر بہت احسان فرمایا،اس نےجب تک چاہااسے زندگی دی اورجب چاہااس کی روح قبض فرمالی، میرےگمان کے مطابق یہ موت کوپسندکرتاتھااوراس مُعامَلے میںاللہ عَزَّ  وَجَلَّسےاچھی امید رکھتاتھا،میں اس بات سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں وہ چیز پسند کروں جومیرے ربعَزَّ  وَجَلَّکو ناپسندہوکیونکہ اللہعَزَّ  وَجَلَّکی طرف سےمجھ پر آزمائش ہویامجھ پراس کااحسان ونعمت ہوکسی حال میں بھی مخالفت درست نہیں اوربارگاہ خداوندی میں مجھےجو کہناتھا وہ کہہ چکا،تمام تعریفیںاللہ عَزَّ  وَجَلَّکےلئےہیں جس سے ثواب اوراس کے سچے وعدے یعنی مغفرت کی میں امید رکھتاہوں ،ہم اس کے مال ہیں اورہمیں اسی کی طرف لوٹ کرجاناہے،اس کے بعد ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔دنیا اور آخرت میں تمام تعریفیں اسی کے لئےہیں۔
	میں نے چاہاکہ تمہیں  خط  کے ذریعے اطلاع دے دوں اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّکے فیصلے سے آگاہ کر دوں، مجھے نہیں معلوم کہ تمہیں اطلاع دینے سے پہلے کوئی اس پررویا ہےیانہیں، ابھی تک لوگ میرے پاس نہیں آئے نہ میں نے کسی قریب یا دوروالےکو بلایا، میرے لئےاللہ عَزَّ  وَجَلَّہی کافی ہےاوراِنْ شَاءَاللہعَزَّ  وَجَلَّمیں  تمہیں اس موقع پر نہ آنے کی وجہ سےملامت نہیں کروں گا۔ وَالسَّلَامُ عَلَیْکُم
(7492)…حضرتِ سیِّدُنااسماعیل بن ابو حکیمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّحِیْمفرماتےہیں:ایک دن حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکوسخت غصہ آیا،آپ کےصاحبزادےحضرتِ سیِّدُناعبْدُالملِکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی وہاں موجود تھے،جب ان کاغصہ ٹھنڈاہواتوبیٹےنےعرض کی:امیرالمؤمنین!آپ کواللہ عَزَّ  وَجَلَّنےبہت سی نعمتیں ،عظیم منصب اورحکومت و خلافت عطافرمائی ہے پھر کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو اس قَدَر غصے میں دیکھ رہا ہوں؟فرمایا:تم یہ کیسے کہہ رہےہو؟صاحبزادے نےاپنی بات دُہرائی توآپ نےفرمایا:عبْدُالملِک! کیا تمہیں  غصہ نہیں آتا؟عرض کی:اگر میں غصے کو پی نہ لوں توپھر میرے بڑے پیٹ کا کیا فائدہ؟ راوی کا بیان ہے کہ ان کا پیٹ بڑا تھا۔
امیرالمؤمنین کونصیحت: 
 (7493)…حضرتِ سیِّدُنااِبْنِ ابوعَبْلَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکابیان ہےکہ ایک دن حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز