Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
479 - 531
 موت اور اپنی  طرف لوٹنا  لکھ دیا ، اس نے اپنی نازل کردہ سچی کتاب کی حفاظت اپنے عِلْمِ اَزَلی سے کی ،فرشتوں کو اس کی  حقانیت پرگواہ بنایا اس میں ارشاد فرمایا:بے شک زمین اور اِس پر موجودہر شے کا مالک وہی ہےاور اسی کی طرف مخلوق  کو پھرناہے،پھر اپنے نبیعَلَیْہِ السَّلَامسے ارشادفرمایا:
وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبْلِکَ الْخُلْدَ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مِّتَّ فَہُمُ الْخٰلِدُوۡنَ ﴿۳۴﴾  (پ۱۷،الانبیاء:۳۴)	
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کے لئے دنیا میں ہمیشگی نہ بنائی تو کیا اگرتم انتقال فرماؤتویہ ہمیشہ رہیں گے۔
	ایک مقام پر ارشاد فرمایا:
مِنْہَا خَلَقْنٰکُمْ وَ فِیۡہَا نُعِیۡدُکُمْ وَ مِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی ﴿۵۵﴾(پ۱۶،طٰہٰ:۵۵)
ترجمۂ کنز الایمان:ہم نےزمین ہی سے تمہیں بنایا اور اسی میں تمہیں پھرلےجائیں گےاوراسی سےتمہیں دوبارہ نکالیں گے۔
	موت لوگوں کے لئے دنیامیں ایک  راستہ ہے ،اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے کسی بھی نیک  یابدکی قسمت میں ہمیشہ کا رہنا نہیں لکھا،اللہ عَزَّ  وَجَلَّدنیا والوں میں اپنے فرمانبرداروں کو بھانے والا ثواب دے کر اور بلاؤں کی صورت میں اپنے نافرمانوں سے انتقام لے کر خوش نہیں ہوتا، دنیاوالوں کی پسندیدہ اور ناپسندیدہ ہر شے یہیں رہ جائے گی،دنیا اپنے آغاز سے انجام تک اسی طرح رہے گی تاکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّجانچے کہ اس کے بندوں میں کس کا عمل زیادہ اچھا ہے،تو جودنیا سےاس حال میں گیاکہ وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکےفرماں برداراورپسندیدہ یعنی انبیائے کرام اور ہدایت یافتہ اَئمہ کی پیروی کرتا رہاجن کی اقتداکاحکم اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے اپنے  نبی کے ذریعے دیاتواس صورت میں فضْلِ خداوندی سے ہمیشہ کے لئےاس کا ٹھکانا جنت ہےجس میں اسے کوئی تکلیف ہو گی نہ تھکن اورجو دنیا سے اس حال میں گیا کہ وہ نافرمانی یانافرمان لوگوں کی پیروی کرتارہاتو اسےلمبےعرصےتک جہنم کاسامناکرنا پڑےگااوروہ خود کو اس مقام پر لےگیاجسے برداشت کرنے کی  اس میں  طاقت نہیں،میں اللہعَزَّ  وَجَلَّکو اس کی رحمت کاواسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ وہ ہمیں ساری زندگی اپنی فرمانبرداری والے کام کرنے اور قرآنِ کریم کی تعلیمات پر عمل پیراہونےکی توفیق عطافرمائےاور جب ہم اس دنیا سےرخصت ہو کر اپنے نبی اوراُن اَئمہ کی بارگاہ میں جائیں جن کی پیروی کا ہمیں حکم دیاگیاہےتواس وقت ہم اس کےچُنے ہوئے پسندیدہ بندوں میں سےہوں،میں اس کی رحمت کاواسطہ دےکراس سےسوال کرتا ہوں کہ وہ ہمیں دنیا میں بُرے کاموں اورقیامت کےدن عذاب سےمحفوظ فرمائے،