Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
478 - 531
فراغت پاکر زیتون کی ایک لکڑی  قبر کےسرہانے اوردوسری  پاؤں کی جانب لگادی،حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزاس طرح قبلہ رخ کھڑے ہو گئے کہ قبر آپ کے سامنےتھی، لوگ بھی آپ کے اردگردکھڑےہوگئےپھرفرمایا:اےمیرےبیٹے!اللہ عَزَّ  وَجَلَّتم پررحم فرمائے،تم اپنےباپ کےفرمانبردارتھے، بخدا!جب سے تم پیدا ہوئےمیں تم سے خوش رہا،خداعَزَّ  وَجَلَّکی قسم!میں تم سےاتنا زیادہ خوش اور تمہارے سبب بارگاہِ الٰہی سے اپنے حصے کا  اس قدر امیدوارتمہیں اس جگہ رکھنے سے پہلےکبھی نہیں تھاجس جگہ تمہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّنےپہنچایا،اللہ عَزَّ  وَجَلَّتم پررحم فرمائے،تمہاری خطاؤں سےدرگزرفرمائے،تمہارے اَعمال کی بہترین جزاعطافرمائےاورجوبھی حاضروغائب شخص تمہارےلئےدعائےخیرکرے اس پربھی رحم فرمائے۔ ہم اس کےفیصلےپرراضی ہیں اورمُعامَلہ اسی کےسپردہے،تمام تعریفیںاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کےلئے جو تمام جہانوں کا پالنے والا۔پھر آپ وہاں سےتشریف لے گئے۔
والد کی آنکھوں کی ٹھنڈک:
(7490)…علی بن حُصَیْن کا بیان ہے کہ میری موجوگی میں حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز پرپےدرپےمصیبتیں آئیں،پہلےان کےبھائی کاانتقال ہوا پھر ان کےسب سے عزیز غلام مزاحم فوت ہو گئے پھرآپ کے بیٹے حضرتِ سیِّدُناعبْدُالملِکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکاوصال ہوگیا، آپ نےبیٹےکےوصال پراللہ عَزَّ  وَجَلَّکی حمدوثناکی پھرفرمایا:میں نےاسے(پیدائش کے بعد)جب ایک کپڑے میں لپیٹ کر دودھ پلانے والی عورتوں کے حوالے کیااس وقت سے آج تک مجھے اس سے خوشی اور آنکھوں کی ٹھنڈک ملی اورآج اسےا س حال میں دیکھ کر آنکھیں جتنی ٹھنڈی ہوئی ہیں پہلے کبھی نہیں ہوئیں۔
امیر المؤمنین کاعبرت آموزخط:
(7491)…حضرتِ سیِّدُناحَزمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں:ہمیں کسی نے  بتایاکہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنےاپنے بیٹے حضرتِ سیِّدُناعبْدُالملکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی وفات کے بعدحضرتِ سیِّدُناعبْدُالحمیدبن عبْدُالرحمٰنعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانکو ایک مکتوب روانہ کیا جس کا مضمون کچھ یوں تھا:امابعد!اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا نام با برکت اوراس کا ذکر سب سے بلند ہے،جب سےاس نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا توان کے لئے