اولادہوتوایسی:
(7487)…مدینہ وشام میں حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکےکاتب کےفرائض سر انجام دینے والےحضرتِ سیِّدُنااسماعیل بن ابوحکیمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّحِیْمبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعبْدُالملِک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنےوالدمحترم حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکےپاس آکرکہنےلگے: لوگوں کاحق لوٹانے کے متعلق آپ نے مزاحم سے جو بات چیت کی تھی اس کا کیا ہوا؟ امیرالمؤمنین نے فرمایا: میں اسےضرورپوراکروں گاپھر دونوں ہاتھ اٹھا کر کہنےلگے:تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے ہیں جس نے میری اولاد کو دینی معاملات میں میرا مددگار بنایاپھرفرمایا: بیٹا!اِنْ شَاءَاللہعَزَّ وَجَلَّمیں ظہر کی نماز کےلئے جاؤں گا تو لوگوں کے سامنے منبر پر کھڑے ہوکروہ تمام مال لوٹادوں گا۔بیٹےنےعرض کی:امیرالمؤمنین!ظہر کی نماز تک آپ کی زندگی کی ضمانت کون دےگااوراگرآپ زندہ بھی رہے تو کون اس بات کی ضمانت دےگا کہ ظہر تک آپ کی نیت سلامت رہےگی؟امیرالمؤمنین نےفرمایا:لوگ قیلولہ کرنےکےلئےجاچکےہیں۔ صاحب زادے نےعرض کی:آپ منادی کو کہہ دیجئے کہ وہ لوگوں کو نماز کےلئے جمع ہونے کی ندا لگائے تاکہ لوگ مسجد میں جمع ہو جائیں۔چنانچہ منادی نے امیرالمؤمنین کےحکم پرنِدا کی تو لوگ جمع ہو گئے،آپ کے پاس ایک ٹوکر ی یا ایک برتن لایا گیاجس میں کاغذات تھے(جن پرلوگوں کےنام مع حقوق درج تھے)، امیرالمؤمنین کےپاس قینچی تھی(آپ ہر فردکو بلا کر اس کا حق دیتے)پھر قینچی سے اس کاغذ کو کاٹ دیتے حتّٰی کہ ظہر کی اذان ہونے لگی۔
ایک ہی گھر کے تین بہترین افراد:
(7488)…حضرتِ سیِّدُنامَیْمُون بن مِہرانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتےہیں:میں نےکسی گھرمیں ایسےتین اَفراد نہیں دیکھےجوحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز،ان کےبیٹےحضرتِ سیِّدُناعبْدُالملِک اوراُن کےغُلام مُزاحِمعَلَیْہِمُ الرَّحْمَہ سےبہتر ہوں۔
بیٹے کی تدفین اوروالدکے جذبات:
(7489)…زِیادبن ابُوحَسّان کابیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکےبیٹے حضرتِ سیِّدُناعبْدُالملِکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی تدفین کےوقت میں وہاں موجودتھا۔ لوگوں نےتدفین کےعمل سے