پڑھتےجاتے(اس کےمطابق لوگوں کوان کامال دیاجاتارہا)اورآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہان سےوہ تحریریں لےکر اپنے ہاتھ میں موجود قینچی سے کاٹتے جاتے حتّٰی کہ ظہر کی اذان شروع ہو گئی۔
والد کو نصیحت:
(7485)…حضرتِ سیِّدُناجَعْونہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعبْدُالملِکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنےوالدحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکی خدمت میں حاضرہوکرکہنےلگے: اگرآپ نے حق کو زندہ اور باطل کو مردہ نہ کیا توبارگاہِ الٰہی میں حاضرہوکرکیا جواب دیں گے؟فرمایا:بیٹا!ذرا اطمینان سے میری بات سنو،تمہارے آباء واجدادنےلوگوں کوحق سے دھوکے میں رکھاحتّٰی کہ اُمُورِ خلافت میرے سپرد ہو گئے،ان کا شرآگےبڑھ چکا تھا اور بھلائی پیچھے رہ گئی تھی، لیکن کیا میری اچھائی کے لئے یہ بات کافی نہیں کہ میں ہر روز ایک حق کو زندہ کروں اور ایک باطل کو مٹا دوں حتّٰی کہ اسی حالت میں مجھے موت آجائے؟
بہترین مشیر:
(7486)…حضرتِ سیِّدُنامَیْمُون بن مِہرانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُ العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنےمجھے،حضرتِ سیِّدُنامکحول اورحضرتِ سیِّدُناابُوقِلابَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَاکواپنےپاس بلاکرپوچھا: لوگوں سےظُلْمًالئےگئےمال کےبارےمیں آپ حضرات کی کیارائےہے؟حضرتِ سیِّدُنامکحولرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےبہت نرم بات کَہی جسےامیرالمؤمنین نےناپسندکیااورفرمایا:میرےخیال سےآپ یہ عمل پھر سے دُہرانا چاہتے ہیں۔پھرمیری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تومیں نے کہا: امیرالمؤمنین!اپنےصاحب زادے حضرتِ سیِّدُناعبْدُ الملِکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو بُلوا کریہ معاملہ ان کے سامنے رکھ دیجئے کیونکہ آپ کو ان کے سوا کوئی رائے نہیں دے سکتا،لہٰذاآپ نےایک درباری سےفرمایا:عبْدُالملِک کوبُلالاؤ۔جب وہ آئے توآپ نے ان سےفرمایا: لوگوں سےظُلْمًالئے گئے مال کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟لوگ اپنا حق لینے آئے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وہ اَموال کہاں ہیں۔حضرتِ سیِّدُناعبْدُالملِکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےکہا:میری رائے ہے کہ آپ وہ مال لوگوں کو لوٹا دیں اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ بھی غَصَب کرنے والوں میں شامل ہوں گے۔