ہوئی میں نے ان سے کہا:کیا آپ جانتےہیں کہ امیرالمؤمنین نےکیافرمایاہے؟پوچھا:کیا فرمایاہے؟میں نے کہا:امیرالمؤمنین نے مجھ سےپوچھا:تمہارے خیال کےمطابق ہمیں مسلمانوں کاکتنامال ملاہوگا؟میں نے عرض کی:اے امیر المومنین ! کیا آپ جانتے ہیں کہ (اگر مال لوٹادیا تو)آپ کے گھر والوں کے لئے کیا بچے گا؟فرمایا: ہاں، اللہ عَزَّ وَجَلَّہی انہیں کافی ہے۔صاحبزادے نےفرمایا:اےمزاحم! تم کتنےبُرے وزیر ہو۔ یہ کہہ کر خود امیرالمؤمنین کےپاس ملاقات کےلئےگئےتودربان سےفرمایا:جاؤمیرےلئےاجازت طلب کرو۔اس نےکہا: آپ کےوالدمحترم کودن رات میں صرف یہی وقت آرام کاملتاہے۔آپ نےفرمایا:ملناضروری ہے۔حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنےاندر سےان کی گفتگوسن کرفرمایا:دروازےپرکون ہے؟دربان نےعرض کی:آپ کےصاحب زادےعبْدُالملِک ہیں۔فرمایا:انہیں آنے دو۔ جب آپ اندرآئے توانہوں نےفرمایا:اس وقت کیسےآنا ہوا؟عرض کی:ایک بات کرنےکےلئےآیاہوں،مُزاحِم نےمجھے ایسی ایسی بات بتائی ہے۔ امیرالمؤمنین نےفرمایا:ہاں، میں نےایسا کہا ہے، تمہاری کیا رائے ہے؟کہا:میں چاہتا ہوں کہ آپ اسےفورًا لوٹادیجئے۔فرمایا:نمازکےلئےجاؤں گاتومنبرپرکھڑےہوکرلوگوں کوان کامال واپس کردوں گا۔بیٹے نےعرض کی:کیاآپ کوامیدہےکہ آپ نماز کے وقت تک زندہ رہیں گے؟ امیرالمؤمنین نےفرمایا:ابھی کئے دیتاہوں۔چنانچہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزاسی وقت باہرتشریف لائےاوریہ نداکروادی ”اَلصَّلٰوۃُ جَامِعَہ“اور خودمنبر پرتشریف فرماہوکرلوگوں کو ان کا مال واپس لوٹادیا۔
(7484)…حضرتِ سیِّدُنااسماعیل بن ابوحکیمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْنبیان کرتےہیں:ایک مرتبہ ہم حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکی خدمت میں حاضرتھے،جب ہم مُنْتَشِرہوگئےتوآپ نے ”اَلصَّلٰوۃُ جَامِعَہ“ کی ندا لگوا کر دوبارہ لوگوں کومسجد میں اِکَھٹّا کیا، میں مسجد میں گیا تو دیکھاکہ امیرالمؤمنین منبر پر موجود تھے، آپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی حمد و ثنا کر نے کے بعد فرمایا:بنوامیہ کے اُمَرا نے ہمیں تحائف دیئے جن کا لینا ہمارے لئےمناسب نہیں تھااورنہ ان کےلئےدینامناسب تھا،مجھےیقین تھاکہ اس مُعامَلےمیںاللہعَزَّ وَجَلَّ کے سوا مجھے پوچھنے والا کوئی نہیں،لیکن میں آج سےاپنےاوراپنے گھر والوں سے وہ مال لوٹانے کاآغاز کر رہا ہوں۔پھراپنےغلام سےفرمایا:مزاحم!ان کےسامنےان تحائف کی تحریریں پڑھوتووہ ایک کےبعدایک تحریر