تھے۔آپ فرمایاکرتےتھے:اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!مجھےاپنےوالدسب سےزیادہ عزیزہیں لیکن مجھےان کی خلافت سے زیادہ ان کی موت محبوب ہے۔
(7481)…حضرتِ سیِّدُنااِبْنِ شَوْذَبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسےمروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُناعبْدُالملِکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی زوجَۂ محترمہ کنگھی کئے،پاجامہ،چادراورجوتیاں پہنےان کےپاس آئیں ،آپ نےان کی طرف دیکھا تو فرمایا:عِدت گزار،عِدت گزار(یعنی انہیں طلاق دے دی) (1)۔
عدل و انصاف کی زبر دست حمایت:
(7482)…حضرتِ سیِّدُنامَیْمُون بن مِہرانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانکابیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُناعبْدُالملِکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےاپنے والدِمحترم سے عرض کی :ابا جان! آپ جو عدل کرناچاہتے ہیں اسے کر گزرنے سے آپ کو کس نےروکا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم !مجھے اس بات کی پر وا نہیں کہ اس کی وجہ سے مجھے اور آپ کو ہانڈیوں میں اُبالا جائے۔فرمایا:بیٹا!میں لوگوں کو دشواریاں جھیلنے کا عادی بنا رہا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ عدل کا معاملہ زندہ کر دوں اورمیں اس عمل پر کاربند رہوں گا حتّٰی کہ میں اس کے ساتھ ساتھ ان کے دل سے دنیاوی لالچ بھی نکال دوں گا پھر لوگ دنیا سے نفرت کرنے لگیں گے اور آخرت کے لئے زندگی گزاریں گے۔
بھلائی پرمددگار:
(7483)…حضرتِ سیِّدُناہِشام بن حَسّانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانبیان کرتےہیں کہ ایک دن حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنےاپنے غلام مُزاحِم سے کہا:تمہارے خیال کے مطابق ہمیں مسلمانوں کاکتنا مال ملا ہوگا؟عرض کی:اے امیرالمؤمنین! کیا آپ جانتے ہیں کہ (اگر مال لوٹادیا تو)آپ کے گھر والوں کے لئے کیا بچےگا؟فرمایا:ہاں،ان کےلئےاللہ عَزَّ وَجَلَّہی کافی ہے۔حضرت سیِّدُنامُزاحِمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں وہاں سےنکلاتوامیرالمؤمنین کےصاحبزادےحضرتِ سیِّدُنا عبْدُالملِکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسےمیری ملاقات
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…حضرت سیِّدُناعبْدُالملِک بن عُمَربن عبْدُالعزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَانےدنیاسےبےرغبتی کی وجہ اپنےاجتہادسےایساکیا، عورت کےلئےمستحب ہےکہ بن سنورکرشوہرکےسامنےحاضرہو۔ہرکس وناقص کوان کے اس عمل کی پیروی کرنےکی اجازت نہیں۔