Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
472 - 531
جائے،رزق کاذرہ برابردانا جب تک  پورانہ مل جائےاورجہاں موت آنی ہےجب تک وہاں پہنچ نہ جائےاس وقت تک کسی کوموت نہیں آسکتی۔اس کی تائید اس فرمانِ باری تعالیٰ سے ہوتی ہے:
قُلْ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَتُغْلَبُوۡنَ وَتُحْشَرُوۡنَ اِلٰی جَہَنَّمَؕ  (پ۳،اٰل عمرٰن:۱۲)	
ترجمۂ کنز الایمان:فرما دو کافروں سے کوئی دم جاتا ہے کہ تم مغلوب ہو گے اور دوزخ کی طرف ہانکے جاؤ گے۔
	اس آیتِ مُبارَکہ میںاللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے کافروں اور مشرکوں کودنیا میں قتل اورآخرت میں دوزخ کے عذاب  کی خبر دی حالانکہ اس وقت وہ مکہ میں زندہ تھے جبکہ تم کہتے ہو” جن دوعذابوں  کے نازل ہونے کی خبراللہو رسولعَزَّ  وَجَلَّوصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنےدی تھی اس میں وہ عِلْمِ الٰہی کوجھٹلانےکااختیاررکھتےہیں۔“فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
ثَانِیَ عِطْفِہٖ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ ؕ لَہٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ  (پ۱۷،الحج:۹)	
ترجمۂ کنز الایمان:حق سے اپنی گردن موڑےہوئے تاکہ اللہ کی راہ سے بہکا دےاس کے لیے دنیا میں رسوائی ہے۔
	یعنی بدر کے دن قتل ہونا۔
وَّ نُذِیۡقُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَذَابَ الْحَرِیۡقِ ﴿۹﴾ (پ۱۷،الحج:۹)	
ترجمۂ کنز الایمان:اورقیامت کےدن ہم اُسےآگ کا عذاب چکھائیں گے۔
قدریہ فرقےکودعوتِ فکر:
	قَدْرِیّو!اس معاملے پرغورکرلوجس میں تمہاری رائے نےتمہیں مبتلاکردیااوراسےبھی دیکھ لوکہ اگر  اس نے تم پر رحم نہ کیا تو اس کے عِلْمِ ازلی کے مطابق  تمہارے لئے اس میں بد بختی لکھ دی گئی ہے۔ پھرحضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمان سنو:اسلام کی بنیاد تین اعمال پر ہے پہلاعمل جہاد ہےجواللہ عَزَّ  وَجَلَّ کےرسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بعثت سےقیامت تک جاری رہے گا اس میں  مسلمانوں کی ایک جماعت شریک ہوگی جو دجال کے ساتھ قتال کرے گی کسی ظالِم کا ظلم اور عادِل کا عدل انہیں اپنے مقصد سے نہ ہٹا سکے گا،دوسراعمل یہ ہے کہ مسلمانوں کی تکفیر نہ کرو،نہ ان پر شرک  کا حکم لگاؤاورتیسراعمل یہ ہےکہ ہراچھی بُری تقدیراللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی جانب سے ہے۔
	تم نےاسلام سے جہاد کا ستون توڑ ڈالا، اپنی بدعت کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا، تم نے اس امت پر کفر کے