وَّاجْنُبْنِیۡ وَبَنِیَّ اَنۡ نَّعْبُدَ الۡاَصْنَامَ ﴿ؕ۳۵﴾ (پ۱۳،ابراھیم:۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کے پوجنے سے بچا۔
اور یہ بھی عرض کی:
رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیۡنِ لَکَ وَمِنۡ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ۪(پ۱،االبقرة:۱۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ربّ ہمارے اور کر ہمیں تیرے حضور گردن رکھنےوالےاور ہماری اولاد میں سے ایک امت تیری فرمانبردار۔
یعنی ایمان اور اسلام تیرے دسْتِ قدرت میں ہے اور جو بتوں کی پوجاکرے اس کی پوجا بھی تیرے ہی قبضَۂ قدرت میں ہے۔ اےقَدْرِیَو!تم نے تواس کا انکار کیا اور مشیَّتِ الٰہی کے بجائے خودکواس کا مالک مان لیا۔
موت کے بارے میں باطل عقیدے کا رد:
تمہارا عقیدہ ہے کہ ”قتل ہوجانا موت کےوقت سے پہلےمر جانا ہے۔“جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی کتاب میں اسےموت کا نام دیا ہے پس حضرتِ سیِّدُنایحییٰعَلَیْہِ السَّلَامکےبارے میں ارشادفرمایا:
وَسَلٰمٌ عَلَیۡہِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوۡتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا ﴿٪۱۵﴾ (پ۱۶،مریم:۱۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اورسلامتی ہےاس پرجس دن پیدا ہوا اور جس دن مرے گا اورجس دن زندہ اٹھایا جائےگا۔
حضرتِ سیِّدُنایحییٰعَلَیْہِ السَّلَامکوقتل کیاگیا تھا اورآیت میں اسےموت کہا گیا ہے۔ وہ شخص جو کافروں سے قتال کر کے شہادت کی موت پائےیا قتْلِ عمد کے سبب مر جائے یا قتْلِ خطا سے مرجائے وہ ایسا ہی ہے جو کسی مرض کی وجہ سے مر جائے یا ناگہانی طور پرمر جائے۔یہ تمام صورتیں موت ہی ہیں کہ ایک مُقَرَّرہ مدت پوری ہوگئی، رزق تمام ہو گیا، آخری نشانِ قدم تک رسائی ہوئی اور بندہ (دنیا میں)اپنے ٹھکانے کو پہنچا۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوۡتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللہِ کِتٰبًا مُّؤَجَّلًاؕ (پ۴،اٰل عمرٰن:۱۴۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اورکوئی جان بےحکْمِ خدامرہی نہیں سکتی سب کا وقت لکھا رکھا ہے۔
جب تک دنیا میں کسی کی عُمْرکاایک لمحہ باقی ہے وہ مکمل نہ ہوجائے،جہاں قدم کالگنا لکھا ہےوہ لگ نہ