اس نےتمہارےاعمال کےمعاملےمیں تمہارےمتعلق اپنےعلْمِ اَزَلی کوغیراہم جانااوراس نےاپنی مشیت کو تمہاری مشیت کے تابع کر دیا ہے ۔“(مَعَاذَاللہ)
اس عقیدے کا رد:
افسوس ہےتم پر،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!بنی اسرائیل کی مرضی ان پرنہیں چلی جب انہوں نےکتابُاللہ (یعنی تورات)کےاَحکام ماننے سے انکار کیا جس کاانہیں مضبوطی سے تھامنے کاحکم تھاتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے پہاڑ کو اٹھا کر سائبان کی طرح ان پرمعلق کر دیا تو کیا تم نے ان گمراہ لوگوں میں سے کسی کی مرضی چلتی دیکھی؟جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی ہدایت کا ارادہ فرمایاحتّٰی کہ انہیں ارضِ مُقَدَّسہ میں اسلام کےلئےتلوار کے ساتھ داخل فرما دیا حالانکہ وہ اس بارے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تقدیر پر راضی نہ تھے۔
کیا حضرتِ سیِّدُنایونس عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم کی مرضی اس وقت چلی جب انہوں نے ایمان لانے سے انکار کیاحتّٰی کہ عذاب ان پر سائبان بن گیا جسے دیکھ کر وہ ایمان لےآئے اور ان کا ایمان قبول کر لیا گیا اوران کے علاوہ کاایمان ردکردیااوران سےقبول نہ فرمایاجیساکہ اِرشادباری تعالیٰ ہے:
فَلَمَّا رَاَوْا بَاۡسَنَا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللہِ وَحْدَہٗ وَکَفَرْنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشْرِکِیۡنَ ﴿۸۴﴾فَلَمْ یَکُ یَنۡفَعُہُمْ اِیۡمٰنُہُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاۡسَنَا ؕ سُنَّتَ اللہِ الَّتِیۡ قَدْ خَلَتْ فِیۡ عِبَادِہٖ ۚ(پ۲۴،المؤمن:۸۴، ۸۵)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھا بولے ہم ایک اللہپر ایمان لائے اور جو اس کے شریک کرتے تھے اُن سے منکر ہوئےتو ان کے ایمان نے انھیں کام نہ دیا جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا اللہکا دستور جو اس کے بندوں میں گزر چکا۔
اس سے مراد وہ عِلْمِ الٰہی ہے جو اس کے بندوں کے حق میں پہلے سے طے شدہ ہے۔اور ارشاد فرمایا:
وَ خَسِرَ ہُنَالِکَ الْکٰفِرُوۡنَ ﴿۸۵﴾٪ (پ۲۴،المؤمن:۸۵) ترجمۂ کنز الایمان:اور وہاں کافر گھاٹے میں رہے۔
اوریہ ان کا ٹھکاناتھاجوعِلْمِ الٰہی میں تھاکہ وہ انبیاپرایمان لائےبغیرہلاک ہوجائیں گےبلکہ ہدایت و گمراہی، کفروایمان اورخیروشراللہعَزَّ وَجَلَّ کی قدرت واختیارمیں ہےوہ جسےچاہےہدایت دےاورجسےچاہےچھوڑ دے کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں۔ اسی لئے حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: