Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
469 - 531
اہلسنت و جماعت کا عقیدہ:
	تم جنہیں اپناپیشواسمجھتےہوحالانکہ وہ اہلسنت ہیں ان کاتوعقیدہ یہ ہے کہ”نیکی کااللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی جانب سے ہونا  اس کے عِلْمِ اَزَلی میں ہے اوربُرائی کا ہماری جانب سے ہونا بھی اس کے  عِلْمِ اَزَلی میں ہے“جبکہ تم کہتے ہو: ایسا نہیں ہے بلکہ نیکیوں کا صدور بھی ہم سےہی ہوتاہےجیسےبدی کاصدورہم سےہوتاہے۔یہ تمہاری طرف سے کتابُ اللہ کی تردید اور دین میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ جب قَدْرِیّہ کا یہ قول ظاہر ہوا تو حضرتِ سیِّدُناعبداللہبن عبا سرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانےفرمایا: ”یہ اس اُمَّت کاپہلا شرک ہے۔بخدا!ان کےگندے خیالات ختم نہیں ہو نگےحتّٰی کہ یہ لوگاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو خیر کاخالق ہونے سے بھی خارج ماننے لگیں گے جیسے انہوں نے اسے شرکاخالق ہونے سے خارج مانا ہے۔“
قدریوں  کاعقیدہ:
	تم اپنی جہالت کے سبب یہ گمان کرتے ہو کہ ”جو عِلْمِ الٰہی میں گمراہ ہو پھر وہ  ہدایت پاگیاتووہ اس ہدایت کا پہلے سے ہی مالک تھاحتّٰی کہ اس کاہدایت یافتہ ہونااللہ عَزَّ  وَجَلَّ کےعلم میں نہیں تھااور جس کا سینہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اسلام کے لئے کھولاتووہ اُس کے کھولنے سے پہلے ہی اپنا سینہ کھولنے کا  اختیار رکھتا تھا اور اگر وہ مومن تھا پھر کفر کیا تو اس نے اپنی مرضی سے کیااوروہ اس کا مالک تھا اور اس کاکفر اپنانے کا ارادہ اس کے ایمان کے بارے میں مَشِیَّتِ خداوندی سے زیادہ قائم ہونے والا ہے۔“(اَلْعِیاذُ بِاللہ) 
اس عقیدے کا رد:
	میں (عُمَربن عبْدُالعزیز)گواہی دیتا ہوں کہ بندہ جوبھی نیکی کرتاہے  وہ اپنی مددآپ نہیں کرتا اور جو بھی بُرائی کرتا ہے تو اس پر بھی اس کے پاس کوئی حُجّت نہیں ہوتی ۔فضل تواللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی کے ہاتھ ہے وہ جسے چاہے دے اور اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمام لوگوں کو ہدایت دینا چاہے تو ضرور اس کا حکم  گمراہوں پربھی نافذ ہو گا حتّٰی کہ وہ ہدایت پا جائیں  گے۔
مَشِیَّتِ خداوندی کے بارے میں قدریہ کا عقیدہ:
	تمہارا عقید ہ یہ ہے کہ ”اس نے اپنی مشیت سے نیکی اور گناہ کرنے کا اختیار تمہارے سپرد کر دیا ہے،