Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
468 - 531
 اگر تم ایمان کو پسند کر لو توجنتی ہو جاؤ گے۔ پھر یہ کہ اہْلِ سنت وجماعت نے قرآنِ کریم  کی تصدیق میں جوحدیْثِ رسول پیش کی تم نے اپنی جہالت سے (اس کا انکار کرکے)اسے اپنے لئے گناہ بنالیا اور تمہارایہ عمل ایک اوربڑے گناہ(حدیث کی تکذیب وطعن) کو جنم دے رہا ہے  ۔وہ حدیث یہ ہے کہ جب حضرتِ سیِّدُنا عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےبارگاہِ رسالت میں عرض کی کہ”ہم جوکرتےہیں اس کےبارےمیں آپ کی کیارائےہے، کیا یہ پہلے سے طے ہے یا ہم خوداس کا آغاز کرتے ہیں؟توآپصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:یہ سب کچھ پہلےسےمُقَرَّرکردیاگیا ہے۔‘‘اےقَدْرِیّو!تم نےاس کی تکذیب کرکےحدیث پرطعن کیاحالانکہاللہعَزَّ  وَجَلَّ کا سکھانا ان کے علم میں ہے پھر تم یہ بھی کہتے ہو” اگر ہم میں اس کے علم سے نکلنے کی طاقت نہ ہو تو یہ جَبْر ہے۔“اور جبرتمہارے نزدیک ظلم ہےتو اس طرح تم نے مخلوق  کے متعلق عِلْمِ الٰہی کے نفاذ کو ظلم قرار دے دیا جبکہ حدیْثِ پاک میں آیا ہے کہ ”جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُناآدم عَلَیْہِ السَّلَامکو پیدا فرمایاتو ان کی تمام اولاد کو اپنےسامنے پھیلایاپھرجنتیوں کو لکھ لیا حالانکہ انہوں نے اعمال نہیں کئے تھے اور دوزخیوں کو بھی لکھ لیاجبکہ انہوں نےبھی کوئی عمل نہیں کیاتھا۔“حضرتِ سیِّدُناسہل بن حُنَیْفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےجَنگِ صفین کے موقع پر فرمایا:اے لوگو!تمہاری جو رائے دین کے خلاف ہو اسے غلط قرار دو،  اس ذات کی قسم جس کے قبضَۂ قدرت میں میری جان ہے!اگرہم ابُوجَنْدل کےدنرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےحکم کو رد کرنے پرقادر ہوتے تو کر دیتے، خدا کی قسم!ہم نے اپنے کاندھوں پرتلواریں اس لئے اٹھائی ہوئی ہیں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہم پر وہ معاملہ آسان کر دے جسے ہم تمہارے ا س (یعنی جَنگِ صفین کے) معاملے سے پہلے جانتے ہیں۔
خیر و شر کے بارے میں قدریہ کاعقیدہ:
	تم اپنی جہالت کے سبب دعوتِ حق کا اظہار باطل تاویلات سےاس طرح کرتے ہو کہ لوگوں کو عِلْمِ الٰہی کی تردیدکی دعوت دیتے ہو اور کہتے ہو کہ’’نیکی  کاخالقاللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہےاوربدی  کے خالق  ہم خودہیں۔‘‘(مَعَاذَاللہ)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……ہربھلائی،بُرائی اس(یعنی اللہعَزَّ  وَجَلَّ)نےاپنےعِلْمِ  اَزَلی کےموافق مقدرفرمادی ہے،جیساہونےوالاتھااورجوجیساکرنےوالا تھا، اپنےعلم سےجانااوروہی لکھ لیاتویہ نہیں کہ جیسااس نےلکھا دیاویساہم کوکرناپڑتاہے،بلکہ جیساہم کرنےوالےتھےویسا اس نےلکھ دیا۔زیدکےذمہ بُرائی لکھی اس لیےکہ زیدبُرائی کرنےوالاتھا،اگرزیدبھلائی کرنےوالاہوتاوہ اس کےلیے بھلائی لکھتاتواس کےعلم یااس کےلکھ دینےنےکسی کومجبورنہیں کردیا۔