Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
467 - 531
موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کی قوم میں سے ایک جماعت راہ ِ حق و انصاف   پر چلنے لگی اور ویسی ہو گئی جیسا اس کے لئے تقدیرِالٰہی میں پہلے سےمقدر تھا۔
قومِ  ثمود،قوم صالح  اور تقدیر:
	جب قومِ ثمودہدایت پانےکےبعدگمراہ ہو گئی توانہیں نہ مُعافی ملی،نہ ان پررحم کیا گیا،عِلْمِ الٰہی کے مطابق انہیں ایک چیخ سنائی دی تو وہ اسی وقت فناہو گئےپھر دیگر لوگوں کے ساتھ بھی وہی ہواجوتقدیرمیں تھا کہ حضرتِ سیِّدُناصالحعَلَیْہِ السَّلَامان کےرسول ہوئے،اونٹنی ان کی قوم کےلئےآزمائش بنی اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّنے انہیں کفر کی حالت میں موت دی کیونکہ انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹی تھیں۔
شیطان اورتقدیر:
	شیطان پہلے فرشتوں کی طرح تسبیح و عبادت میں مشغول تھا، اسے آزمائش میں ڈالا گیا تو اس نے نافرمانی کی،پس اسےمردودقراردےدیاگیا۔
سیدناآدم ویوسف عَلَیْہِمَا السَّلَاماور تقدیر:	
	حضرتِ سیِّدُناآدمعَلَیْہِ السَّلَامسےلغزش ہوئی تواللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان پررحم فرمایا۔حضرتِ سیِّدُناآدم عَلَیْہِ السَّلَاملغزش کاارادہ کرتےمگر وہ بُھلا دیئے گئےاور حضرتِ سیِّدُنایوسفعَلَیْہِ السَّلَاملغزش کاارادہ کرتےمگر وہ بچالئےگئے۔توبتاؤ!اس وقت قدرت واِختیارکہاں تھا؟کیاان کےقدرت واختیارنےیہ فائدہ دیاکہ ان واقعات میں سےجسےہوناتھاوہ نہ ہوتایاجسے نہ ہوناتھاوہ ہوجاتا؟اس سےتم پرحُجّت واضح ہوگئی اورجوتم اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے بارے میں کہتے ہو وہ اس سے پاک،بہت بلنداوربہت قدرت والا ہے۔
قدریہ کا حق سے انکاراور اس کا جواب: تم اس بات کا انکار کرتے ہو کہ” کسی کی قسمت میںاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی جانب سے ہدایت یا گمراہی غالب آسکتی ہے(1)۔‘‘اور حقیقت یہ ہے کہ وہ تمہارے خیالات سےبھی باخبر ہے اور اعمال میں تمہیں اختیار دیا ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…دعوتِ اسلامی کےاشاعتی ادارےمکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1250صفحات پرمشتمل کتاب بہارِشریعت،جلداول،حصہ1، صفحہ11پرصَدْرُالشَّرِیْعَہ،بَدْرُالطَّرِیْقَہحضرت علامہ مولانامفتی محمدامجدعلی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینقل فرماتےہیں: …☜