تمہارے عقیدے سے لازم آیاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا علم ان کے ارادے کے بعد ہی نافذ ہو ورنہ نہیں۔‘‘
اے قَدْرِیّو! تم اللہ عَزَّ وَجَلَّکے علم کی تردید کر کے خودکو ہلاکت میں ڈالنے کے درپےکیوں ہو؟ اس نے تمہیں تمہاری پیدائش تک کا علم نہیں دیا تو تمہاری جہالت اُس کے علم کو کیسے گھیر سکتی ہے؟جوکچھ ہونا ہےعِلْمِ الٰہی اس سےعاجزنہیں اور اس کے علم سے کوئی چیز خارج نہیں کہ کوئی اسے رد کر سکے، اگر تم ہر لمحہ ایک سے دوسرا کام کرتے رہو تب بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّکو تمہارے ہر کام کا علم ہے۔فرشےحضرتِ سیِّدُناآدم عَلَیْہِ السَّلَام کی تخلیق سے پہلےیہ بات جانتے تھے کہ انسان زمین میں فساداورخون ریزی کریں گےفرشتوں کوعِلْمِ غیب حاصل نہیں تھا بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو ان کے فساد اور خون ریزی کا علم تھااور انہوں نے یہ اٹکل سے نہیں کہا تھا بلکہ علم و حکمت والےاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں سکھا دیاتھا تواس کےسبب انہوں نےانسان کےبارےمیں یہی گمان کیا اوراسے ظاہربھی کر دیا۔
تم اس بات کا انکار کرتےہوکہ”اللہ عَزَّ وَجَلَّکسی جماعت کوراستےسےہٹنےسےپہلےہی ہٹاسکتاہےاور گمراہ ہونے سے پہلے ہی انہیں گمراہ کرسکتا ہے“حالانکہ یہ توایسی بات ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ایمان رکھنے والااس میں کو ئی شک نہیں کرتا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو بندوں کی پیدائش سے بھی پہلے معلوم ہے کہ ان میں سے کون مومن ہوگا اور کون کافر، کون نیک ہوگا اور کون بد۔کوئی شخص اس بات کی طاقت کیسے رکھ سکتا ہے کہ وہ عِلْمِ الٰہی میں مومن ہو مگرخودکافریا عِلْمِ الٰہی میں کافر ہومگر خودمومن ہو؟اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتا ہے:
اَوَ مَنۡ کَانَ مَیۡتًا فَاَحْیَیۡنٰہُ وَجَعَلْنَا لَہٗ نُوۡرًا یَّمْشِیۡ بِہٖ فِی النَّاسِ کَمَنۡ مَّثَلُہٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیۡسَ بِخَارِجٍ مِّنْہَا ؕ (پ۸،الانعام:۱۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اورکیا وہ کہ مُردہ تھا تو ہم نے اُسے زندہ کیا اوراس کےلیےایک نورکردیاجس سےلوگوں میں چلتاہے وہ اس جیساہوجائےگاجواندھیروں میں ہےان سےنکلنےوالا نہیں۔
پس انسان ایسی گمراہی (کفر) میں تھا جس سے وہ اِذنِ الٰہی کے بغیر کبھی نہیں نکل سکتا تھا۔
قومِ مُوسٰی اور تقدیر:
حضرتِ سیِّدُناموسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کی قوم نے ہدایت ملنے کے بعد ایک بےجان دَھڑکابچھڑابنا لیا جس کی وجہ سے وہ گمراہ ہوئے پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انہیں معاف فرمایا تاکہ وہ لوگ شکر ادا کریں پھر حضرتِ سیِّدُنا