مَّا کَانُوۡا یَحْذَرُوۡنَ ﴿۶﴾ (پ۲۰،القصص:۶) کو وہی دکھا دیں جس کا انھیں ان کی طرف سے خطرہ ہے۔
اورتمہاراعقیدہ یہ ہے کہ ”اگر فرعون چاہتا تو حضرتِ سیِّدُناموسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کا حامی و مدد گار بن جاتا۔“ جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
لِیَکُوۡنَ لَہُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا (پ۲۰،القصص:۸) ترجمۂ کنز الایمان:کہ وہ ان کا دشمن اور ان پرغم ہو۔
تمہارا یہ بھی کہنا ہےکہ”اگر فرعون چاہتا تو غرق ہونے سے بچ جاتا “جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے :
اِنَّہُمْ جُنۡدٌ مُّغْرَقُوۡنَ ﴿۲۴﴾ (پ۲۵،الدخان:۲۴) ترجمۂ کنز الایمان:بے شک وہ لشکر ڈبویا جائے گا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے گزشتہ لوگوں کے متعلق جو وحی فرمائی ہے یہ سب اس میں باری تعالیٰ کے پاس ثابت وقائم ہے جیسا کہ اس نے حضرتِ سیِّدُناآدم عَلَیْہِ السَّلَام کی پیدائش سے پہلے ہی اپنے عِلْمِ اَزَلی سے فرمایا:
اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرْضِ خَلِیۡفَۃً (پ۱،البقرة:۳۰) ترجمۂ کنز الایمان:میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں۔
پھرجس آزمائش میں آپ عَلَیْہِ السَّلَام کومبتلا ہونا تھا اس میں مبتلا ہو کر زمین پر اُتار دیئے گئے ۔یوں ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّکےعِلْمِ اَزَلی میں تھاکہ عنقریب ابلیس کی مَذمَّت کی جائےگی اوردھکےکھائےگا،اسےحضرتِ سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے آگے سجدہ کرنے کی آزمائش میں ڈالا گیا تو وہ انکار کرکے ایسا ہی ہو گیا جیسا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علم میں تھا۔حضرتِ سیِّدُناآدمعَلَیْہِ السَّلَامنےتوبہ کےکلمات سیکھ لئےتواللہ عَزَّ وَجَلَّنےان پررحم فرمایااورابلیس لعنت کےدرپےہوکرگمراہ ہوگیاپھرحضرتِ سیِّدُناآدمعَلَیْہِ السَّلَامکوزمین پربھیج دیاگیاجس کےلئےانہیں پیدا کیا گیاتھا،ان پررحم کیاگیااوران کی توبہ بھی مقبول ہوئی جبکہ ابلیس کواس کےتکبرکی وجہ سےمَذمَّت،دھتکار اورغضب کےساتھ زمین پرپھینک دیا گیا۔
تمہاراعقیدہ ہے کہ ’’ابلیس اور اس کےجِنّات ساتھی اس بات کا اختیار رکھتے ہیں کہ وہ عِلْمِ الٰہی کی تردید کر کےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قَسم سے نکل جائیں جو اس نے یوں ارشاد فرمائی:
فَالْحَقُّ ۫ وَ الْحَقَّ اَقُوۡلُ ﴿ۚ۸۴﴾ لَاَمْلَــَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنۡکَ وَ مِمَّنۡ تَبِعَکَ مِنْہُمْ اَجْمَعِیۡنَ ﴿۸۵﴾
(پ۲۳،صٓ:۸۴، ۸۵) ترجمۂ کنز الایمان:توسچ یہ ہےاورمیں سچ ہی فرماتاہوں بے شک میں ضرورجہنم بھر دوں گا تجھ سے اور ان میں سے جتنے تیری پیروی کریں گے سب سے۔