تم یہ کہتےہو:اگروہ چاہتےتواللہ عَزَّ وَجَلَّنےان کےلئے اپنے علم میں جومعافی مقررکردی تھی وہ اس عِلْمِ الٰہی سے یوں نکل سکتے تھے کہ کافروں سے مال نہ لیتےاوراللہ عَزَّ وَجَلَّاس سےبےعلم ہوجاتا۔تو جس نے ایسا گمان کیا وہ حد سے بڑھنےوالااورجھوٹا ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ایسے بہت سے انسانوں کا ذکر فرمایا ہے جو ابھی اپنے آباء کی پشتوں یا ماؤں کے پیٹوں میں تھے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
وَّ اٰخَرِیۡنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوۡا بِہِمْ ؕ (پ۲۸،الجمعة:۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اوران میں سےاوروں کوپاک کرتے اورعلم عطافرماتےہیں جوان اگلوں سے نہ ملے۔
مزید ارشاد فرمایا:
وَ الَّذِیۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعْدِہِمْ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوٰنِنَا الَّذِیۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالْاِیۡمٰنِ (پ۲۸،الحشر:۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اوروہ جواُن کےبعدآئےعرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں بخش دےاور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے۔
پس ان کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت اور ان کے لئے مغفرت کی دعا ان پر سبقت کر گئی حالانکہ بعدمیں آنے والے ابھی دعا گوہوئےتھےنہ ان سےپہلےایمان لائےتھے،مَعْرِفَتِ خداوندی رکھنے والے جانتےہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا کوئی ارادہ ایسا نہیں جسے پورا ہونے سے پہلے کسی غیر کی چاہت بدل دے،اللہ عَزَّ وَجَلَّنےایک قوم کی ہدایت کاارادہ فرمایاتواسےکوئی بھی گمراہ نہ کرسکاجبکہ ابلیس نےایک جماعت کو گمراہ کرنا چاہا لیکن انہوں نے ہدایت پائی ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےحضرتِ سیِّدُنا موسیٰ و ہارون عَلَیْہِمَا السَّلَام کو حکم دیا:
اِذْہَبَاۤ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی ﴿ۚۖ۴۳﴾فَقُوۡلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی ﴿۴۴﴾ (پ۱۶،طٰہٰ:۴۳، ۴۴)
ترجمۂ کنز الایمان:دونوں فرعون کےپاس جاؤبیشک اُس نے سر اٹھایا تو اس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ وہ دھیان کرے یا کچھ ڈرے۔
جبکہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے علم میں پہلے ہی سےتھاکہ حضرتِ سیِّدُناموسٰی عَلَیْہِ السَّلَام فرعون کے لئے دشمنی اور غم کا باعث ہیں جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتا ہے:
وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ ہٰمٰنَ وَ جُنُوۡدَہُمَا مِنْہُمۡ ترجمۂ کنز الایمان: اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں