Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
461 - 531
عَلَیْہِمُ السَّلَام کےناموں اوراعمال کا ذکر اپنے عِلْمِ اَزَلی کے مطابق مُقَرَّرفرمایاتو ان کے باپ داداؤں میں سے کوئی بھی ان ناموں کو بدل نہ سکااوراللہ عَزَّ  وَجَلَّکےعلم میں ان رسولوںعَلَیْہِمُ السَّلَامکی جو فضیلت مُقَرَّرتھی اسے ابلیس بھی تبدیل نہ کر سکا۔ پس خالِقِ کائنات عَزَّ  وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
وَاذْکُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰہِیۡمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوۡبَ اُولِی الْاَیۡدِیۡ وَ الْاَبْصٰرِ ﴿۴۵﴾ اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰہُمۡ بِخَالِصَۃٍ ذِکْرَی الدَّارِ ﴿ۚ۴۶﴾ (پ۲۳،ص:۴۵، ۴۶)	
ترجمۂ کنز الایمان:اوریادکروہمارےبندوں ابراہیم اوراسحق اوریعقوب قدرت اورعلم والوں کوبےشک ہم نےانھیں ایک کھری بات سے امتیازبخشاکہ وہ اس گھر کی یاد ہے۔
	پس اللہ عَزَّ  وَجَلَّغالب قدرت والاہے اور کسی کو اس نے یہ قدرت نہیں دی کہ اس کے علم میں موجود کسی بھی چیز کو باطل کرے جیساکہ اس کاذکر وہ اپنی وحی میں یوں کرتاہے کہ”اس کے آگے یا پیچھے سے باطل نہیں آ سکتا“اور اس بات کی بھی قدرت نہیں دی کہ کوئی اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک بنادے، یا کوئی اس کی رحمت میں اسے داخل کرے جس کو اس نے اپنی رحمت سےنکال  دیایااس کونکال دےجسے اس نے اپنی رحمت میں داخل کیا ہے۔
ہر بات عِلمِ الٰہی میں اَزَل سے ہے:
	 جس نےیہ عقیدہ رکھا کہ”اللہ عَزَّ  وَجَلَّکواس وقت علم ہوتاہے جب کوئی کام ہوجاتا ہے۔“تواس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو سب سے زیادہ بے علم  قرار دیاحالانکہاللہوَحْدَہہمیشہ  سے ہرچیز کو اس کی تخلیق سے پہلے اور تخلیق کے بعد جانتا ہے اور ہر چیز پر گواہ ہے ، اعمال  کےآغاز سے  اختتام تک اس کے علم میں کسی طرح کی کمی  بیشی نہیں ہوتیاللہ عَزَّ  وَجَلَّظلم کی جڑکاٹنےمیں ذرائع کا محتاج نہیں۔ابلیس خودکوہدایت دینےپرقادرہے نہ اپنےاختیارسےکسی کوگمراہ کرسکتاہے۔مخلوق کےبارےمیں عِلْمِ الٰہی کوباطل اوراس کی عبادت کوبےکار ٹھہرانےکےمُعامَلےمیں تم نے تہمتوں کاسہارالیاجبکہ قرآن کریم تمہاری بدعتوں کو توڑنے اور تمہاری تہمتوں کو دور کرنے کے لئے موجود ہے ۔ 
	تم بخوبی جانتےہوکہ جباللہ عَزَّ  وَجَلَّنےاپنےپیارےرسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوبھیجاتواس وقت لوگ شرک میں مبتلا تھے۔چنانچہاللہ عَزَّ  وَجَلَّنے جس کی ہدایت کاارادہ فرمایااس میں گمراہی نہ  رہی اور جس