یَعْلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْۚ وَلَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنْ عِلْمِہٖۤ اِلَّا بِمَاشَآءَۚ )پ۳،البقرة:۲۵۵)
ترجمۂ کنز الایمان:جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے اوروہ نہیں پاتے اس کے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے۔
پتاچلاکہ عِلْمِ الٰہی تمام مخلوق کو شامل ہے، ہر ایک اس کے سامنے ہے، کوئی چیز ایسی نہیں جوآڑ بن کر کسی کواس کے علم میں آنے سے روک دے یاتبدیل کردے۔بے شک وہ علم و حکمت والا ہے۔
قدریہ کا عقیدہ:
”اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے تب بھی کوئی عمل فرض نہیں کر سکتا۔“(مَعَاذَاللہ)
اس باطل عقیدے کارد:
تمہارا یہ قول اس بات کو بدل رہا ہے جس کی خبر اللہ عَزَّ وَجَلَّنےاپنی کتاب میں دی:
وَلَہُمْ اَعْمٰلٌ مِّنۡ دُوۡنِ ذٰلِکَ ہُمْ لَہَا عٰمِلُوۡنَ ﴿۶۳﴾ (پ۱۸،المؤمنون:۶۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اُن کے کام اُن کاموں سے جدا ہیں جنھیں وہ کر رہے ہیں۔
حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتا ہے:
سَنُمَتِّعُہُمْ ثُمَّ یَمَسُّہُمۡ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۴۸﴾ (پ۱۲،ھود:۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان:جنہیں ہم دنیا برتنے دیں گےپھرانہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّنےان کےاَعمال کرنےسےپہلےان کےعامل ہونےکی خبردی اورانہیں پیداکرنےسےپہلے بتا دیا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّانہیں عذاب دے گا۔
قدریہ کا عقیدہ:
” اگر بندےچاہیں تواللہ عَزَّ وَجَلَّکےعلم میں ان کےلئے جو عذاب ہے اس سے ربّ تعالیٰ کی اس رحمت کی طرف نکل سکتے ہیں جو عِلْمِ الٰہی میں ان کے لئے مقدر نہیں۔‘‘(مَعَاذَ اللہ)
اس باطل عقیدے کارد:
جس نےیہ عقیدہ رکھاتواس نےکتابُ اللہکی تردیدکرکےاس سےدشمنی کی،اللہ عَزَّ وَجَلَّنےکئی رسولوں