Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
46 - 531
جو مسنہ (یعنی ایک سال والی بکری)سے بہتر ہے۔(1)“نبیوں کے سردار، دوجہاں کے مالک و مختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اسے ذبح کرو اور تمہارے بعد کسی کے لئے اس طرح کرنا جائز نہیں ہے۔(2)“(3)
(6238)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غزوۂ خندق کے دن ارشاد فرمایا:”کفار نے ہمیں درمیانی نماز یعنی نمازِعصر سے روک دیا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ان کے  گھر اور قبور کو آگ سے بھر دے(4)۔(5)“
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…قربانی کے جانور کی عمر یہ ہونی چاہیے اونٹ پانچ سال کا، گائے دو سال کی، بکری ایک سال کی، اس سے عمر کم ہو تو قربانی جائز نہیں زیادہ ہو تو جائز بلکہ افضل ہے۔(بہار شریعت، حصہ۱۵، ۳/ ۳۴۰)
…اس سے معلوم ہوا کہ شرعی احکام میں بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بااختیار بنایا ہے کہ جس کے لئے جو چاہیں حلال کردیں اور جس کے لئے جوچاہیں حرام کردیں۔ جیساکہ اس روایت میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خاص ان صحابی کے لئے چھ مہینے کے بکری کے بچے کی قربانی جائز کردی حالانکہ بکرے یا بکری کی قربانی میں ضروری ہے کہ جانور کی عمر ایک سال ہو اس سے کم ہوگی تو قربانی بالکل نہیں ہوگی البتہ دنبے یا بھیڑ کے بچے کا مسئلہ اس سے جدا ہے جیساکہ صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدْرُالطَّرِیْقَہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:”دنبہ یا بھیڑ کا چھ ماہہ بچہ اگر اتنا بڑا ہو کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اُس کی قربانی جائز ہے۔“(بہارشریعت، حصہ۱۵، ۳، ۳۴۹)
	حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےاختیارات کی تفصیل جاننے کے لئے شیخ الحدیث حضرتِ علامہ مفتی محمد منظور احمد فیضی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مایہ ناز کتاب”مقام رسول“ کے دوسرے باب کا مطالعہ بےحد مفید رہےگا۔
…بخاری،کتاب العیدین،باب التبکیر الی العید،۱/ ۳۳۲،حدیث:۹۶۸عن ابی بردہ
…مسلم،کتاب المساجد،باب الدلیل لمن قال الصلاة الوسطی ھی صلاة العصر،ص۳۱۵،حدیث:۶۲۷عن علی
…یعنی ان (کفار) کے حملے کی وجہ سے ہمیں خندق کھودنا پڑی جس میں مشغولیت کی وجہ سے ہماری نمازیں خصوصاً نماز عصر قضاء ہوگئی۔ خیال رہے کہ غزوۂ احد میں حضور(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کو جسمانی ایذا بہت پہنچی لیکن وہاں کفار کو یہ بددعا نہ دییہاں نمازیں قضاء ہونے پر یہ بددعا دی۔ معلوم ہوا کہ حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو نمازیں جان سے پیاری تھیں نیز اس بددعا سے اظہار غضب وملال مقصود ہے حقیقتاً بددعا مقصود نہیں۔(مراٰۃ المناجیح، ۱/ ۳۹۷ ملتقطاً)
	شارح بخاری حضرتِ سیِّدُنا شیخ احمد بن محمد قسطلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں:”کفار نے جب حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دین کے چہرے یعنی نماز کو زخم پہنچایا (نماز نہ پڑھنے دی) تو آپ نے برداشت نہ کیا جبکہ اپنے چہرے کو پہنچنے والے زخم برداشت کرلیے پس آپ نے اپنے خالق عَزَّ  وَجَلَّ کے حق کو اپنے حق پر ترجیح دی۔“ مزید فرماتے ہیں:آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے معاملے میں اذیت پر صبر فرماتے تھے اور اگر معاملہ اللہ تعالیٰ کا ہوتا تو اس میں حکم الٰہی کے موافق سختی فرماتے…☜