Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
459 - 531
 لالچی ہے مگر گمراہ وہی ہوا جو عِلْمِ الٰہی میں پہلے ہی سے گمراہ تھا(1)۔
قدریہ کا جاہلانہ عقیدہ:
	تم اپنی جہالت کے سبب یہ عقیدہ رکھتے ہو کہ ”عِلْمِ الٰہی ایسا نہیں ہے کہ بندوں کو نافرمانی والے کاموں پر مجبورکردےاور فرمانبرداری والے کاموں کو ترک کرنے سے روک دے۔“(مَعَاذَاللہ)
اس باطل عقیدے کارد:
	 یہ صرف تمہارا خیال ہے کیونکہ جس طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّکویہ معلوم ہوتاہے کہ بندے عنقریب اس کی نافرمانی کریں گے اسی طرح  یہ بھی معلوم ہے   کہ عنقریب  وہ اس سے باز آجائیں گے۔ تم نےتوعِلْمِ الٰہی کولَغْو قرار دے دیا ہےکہ  تم کہتے ہو’’اگر بندہ چاہے تو اس کی اطاعت والے کام  کرے اگر چہ عِلْمِ الٰہی  میں ہو کہ اطاعت نہیں کرے گا اور اگربندہ چاہے تو اس کی نافرمانی کو ترک کر دے اگر چہ عِلْمِ الٰہی میں ہو کہ وہ نافرمانی کو ترک  نہیں کرے گا‘‘گویا  تمہارےمطابق  یہ عقیدہ ہواکہ جب تم اس کے علم کے مُوافق عمل کروتو وہ اس کا علم بن جاتا ہے اورجب تم اس کے موافق عمل نہ کرو تو وہ جَہْل بن جاتا ہےاور اگر تم چاہو تو اپنے دل میں ایسا علم پیدا کر لو جو عِلْمِ الٰہی میں نہ ہو اوراس کے ذریعے تم اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے علم کو خود سےالگ کر لو۔یہی وہ چیز ہے جسے حضرتِ سیِّدُناعبداللہبن عبا سرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے توحیدکے منافی قرار دیتے ہوئے فرمایا:’’بے شک اللہ عَزَّ  وَجَلَّنےتقسیم واختیارسے الگ کر کےاپنے فضل ورحمت کوبےکارنہیں بنایااور نہ اس نے رسولوں کو اُس چیزکےباطل کرنےکےلئے مبعوث فرمایا جو اس کے علم میں پہلے سےہے۔‘‘تم عِلْمِ الٰہی کے معاملےمیں ایک بات کو مانتے ہو اور دوسری کا انکار کرتے ہو جبکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…دعوتِ اسلامی کےاشاعتی ادارےمکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1250صفحات پرمشتمل کتاب بہارِشریعت،جلداول، حصہ1، صفحہ18پرصَدْرُالشَّرِیْعَہ،بَدْرُالطَّرِیْقَہحضرت علامہ مولانامفتی محمدامجدعلی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینقل فرماتے ہیں:اللہ تعالیٰ نےآدمی کومثل پتھراوردیگرجمادات کےبےحس وحرکت نہیں پیداکیا،بلکہ اس کوایک نوعِ اختیار(ایک طرح کا اختیار) دیاہےکہ ایک کام چاہےکرے،چاہےنہ کرےاوراس کےساتھ ہی عقل بھی دی ہےکہ بھلے،بُرے،نفع،نقصان کو پہچان سکےاورہرقسم کے سامان اوراسباب مہیاکردیےہیں،کہ جب کوئی کام کرناچاہتاہےاسی قسم کے سامان مہیاہوجاتے ہیں اور اسی بناپراس پرمؤاخذہ ہے۔اپنےآپ کومجبویابالکل مختارسمجھنا،دونوں گمراہی ہیں۔