Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
458 - 531
بلکہ جب بندہ عمل کرلیتا ہے  تب اللہ عَزَّ  وَجَلَّکو اس کاعلم ہوتا ہے۔“(مَعَاذَاللہ)
اس باطل عقیدے کارد:
	تمہاری یہ بات کیسے دُرُست ہو سکتی ہے جبکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشادفرماتا ہے :
اِنَّا کَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیۡلًا اِنَّکُمْ عَآئِدُوۡنَ ﴿ۘ۱۵﴾ (پ۲۵،الدخان:۱۵)	
ترجمۂ کنز الایمان: ہم کچھ دنوں کو عذاب کھول دیتے ہیں تم پھر وہی کرو گے۔
	یعنی پھر سے کفر کریں  گے اور خالِقِ کائنات نے یہ بھی ارشادفرمایا:
وَلَوْ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُہُوۡا عَنْہُ وَ اِنَّہُمْ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۲۸﴾ (پ۷،الانعام:۲۸)	
ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر واپس بھیجے جائیں تو پھر وہی کریں جس سے منع کئے گئے تھےاور بے شک وہ ضرور جھوٹے ہیں۔
قدریہ کا جہالت پر مبنی عقیدہ:
	تم نے اپنی جہالت کےسبب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کےاس فرمان:
فَمَنۡ شَآءَ فَلْیُؤْمِنۡ وَّ مَنۡ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ ۙ (پ۱۵،الکھف:۲۹)	
ترجمۂ کنز الایمان:تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔
	سے یہ سمجھا کہ تمہیں اختیار ہے ہدایت یا گمراہی میں سے جو چاہو کرو۔
اس باطل عقیدے کارد:
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشادفرماتا ہے:
وَ مَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۲۹﴾ (پ۳۰،التکویر:۲۹)	
ترجمۂ کنز الایمان:اورتم کیاچاہومگریہ کہ چاہےاللہ سارے جہان کا رب۔
	اس سےپتاچلاکہ ان کی چاہتاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی چاہت پرموقوف ہےاگراللہ عَزَّ  وَجَلَّ نہ چاہے تو وہ خود  سے کوئی بھی فرمانبرداری والا کام یا بات نہیں کر سکتےکیونکہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے بندوں کو اپنے اختیار کا مالک نہیں بنایا اور جو چیز اس نے اپنے رسولوں کو نہیں دی بھلا وہ عام لوگوں کوکیسے دے سکتا ہے؟رسول تو تمام لوگوں کی ہدایت پر حریص تھے مگر ہدایت اسی نے پائی جسےاللہ عَزَّ  وَجَلَّنے ہدایت دی اورابلیس ہر انسان کی گمراہی کا