قَدرِیّہ فرقے کے عقائد کارد
(7477)…حضرتِ سیِّدُناخَلَف ابُوالْفَضْل قُرَشیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیسے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُا لعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکومکتوب بھیجاجس میں ایسی باتیں درج تھیں جس کا انہیں ہرگزحق نہیں پہنچتا تھامثلاًقرآن مجیدکی تردیداوراس تقدیرکاانکارجواللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنےعِلْمِ اَزَلی سےمقدر فرمائی جس کی نہ توکوئی اِنتہا ہےاورنہ ہی کوئی چیز اس علم سے نکل سکتی ہے،انہوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دین اوراس اُمَّت میں جاری وساری سنَّتِ رسول کےخلاف زبانِ طعن استعمال کی۔ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنےان کی گستاخیوں کا ایک مفصل جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا:
اَمابعد!تم نےعِلْمِ الٰہی کی تردیداوراس سےخُرُوج کےبارےمیں وہ باتیں لکھی ہیں جنہیں آج تک چھپاتے رہےہوحتّٰی کہ تقدیرکوجھٹلانے لگے ہو،حضورنبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی اُمَّت پراسی خوف کا اظہارفرمایاتھا،تم جانتےہو کہ اہلسنت کاعقیدہ ہےکہ’’سنت کوتھامےرہنےمیں نجات ہے‘‘اورعنقریب علم بہت تیزی سے اُٹھا لیا جائے گا۔
دلیل قائم ہوجانے کے بعد عذر کی گنجائش نہیں:
امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےلوگوں کونصیحت کرتےہوئےفرمایا: ”کوئی شخص گمراہی کو ہدایت سمجھ کر اس پر عمل پیرا رہایا ہدایت کو گمراہی سمجھ کر چھوڑتارہا تو اس پر دلیل قائم ہوجانے کے بعد بارگاہِ خداوندی میں اس کے لئے عُذر کی کوئی گنجائش نہیں۔“جان لو!تمام مُعامَلات واضح اوران پردلیلیں قائم ہو چکی ہیں اور اب عُذر کی گنجائش ختم ہو چکی ہےلہٰذا جس نے احادیْثِ رسول اور کلامِ الٰہی سےروگَردانی کی اس کی ہدایت کےاسباب ختم ہوجائیں گےاوروہ شخص ایسی کوئی راہ نہیں پائےگاجس کے ذریعے ہلاکت سے بچ سکے۔
قدریہ کا عقیدہ:
تم نےمیرےحوالےسےیہ لکھاکہ”اللہ عَزَّوَجَلَّاپنےبندوں کےاَعمال اوران کےٹھکانوں(جنت یا دوزخ) سےباخبرہے۔“توتم نے اس عقیدے کا انکار کرتے ہوئےکہاکہ”عِلْمِ الٰہی میں کوئی بات پہلےسےنہیں ہوتی