Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
456 - 531
حجاج بن یوسف پر رشک:
(7475)…حضرتِ سیِّدُنایحییٰ غسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزفرماتےہیں:مجھےاللہ عَزَّ  وَجَلَّکےدشمن حجاج کی چندچیزوں کےعلاوہ کسی بھی چیزپررشک نہیں آتا، مجھے اس کی قرآن سے محبت، قرآن پڑھنے والوں میں اس کی سخاوت اور اس کے اُس قول پر رشک آتا ہے جو اس نے مرتے وقت کہا:اےپروردگارعَزَّ  وَجَلَّ!میری مغفرت فرمادےکیونکہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ تو مجھےنہیں بخشےگا۔
بڑی حیرانگی کی بات ہے:
(7476)…حضرتِ سیِّدُنایحییٰ غسانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیبیان کرتےہیں:میں ہِشام بن عبْدُالملِک کےپاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص نے آکرکہا:اےامیرالمؤمنین!عبْدُالملِک بن مروان  نے میرے دادا کو جاگیر دی تھی جسے ولیداور سُلیمان نے برقرار رکھا،جب عُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزخلیفہ بنےتوانہوں نےواپس لےلی۔ ہشام نے کہا:اپنی بات دہراؤ۔اس نے کہا:اےامیرالمؤمنین!عبْدُالملِک بن مروان  نےمیرے دادا کو جاگیر دی تھی جسے خلیفہ ولیداورسلیمان نے برقرار رکھا،جب عُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزخلیفہ بنے توانہوں نےواپس لے لی۔ہشام نے کہا:اللہعَزَّ  وَجَلَّکی قسم!تم پربڑی حیرانگی ہورہی ہے،جنہوں  نےتمہارے دادا کو جاگیردی اور اسے برقرار رکھا ان کا تذکرہ تم دعائیہ کلمات کے بغیر کررہے ہواورجس نےواپس لےلی اس کا تذکرہ دعائیہ کلمات کے ساتھ کررہےہو۔ہمارابھی وہی فیصلہ ہےجوحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنےکیاتھا۔

علم کی بقا
حضرت سیِّدُناعابسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرت سیِّدُناعلقمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:علم کی بقاتکرارکرنےمیں ہے(یعنی اگرتکرارنہ کی جائےتوجوکچھ یادکیاوہ بھول جاتاہے)۔(حلیة الالیاء،۲/ ۱۱۸،رقم:۱۶۴۲)