حضرتِ سیِّدُناعَمْروبن مُہاجرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَادِرفرماتےہیں:میں اس وقت امیرالمؤمنین کےدروازے پراس خیال سےسوگیاتھاخُدانَخَواستہ لوگوں میں کوئی شورشرابہ ہواتومیں ان میں صلح کرادوں گاورنہ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوخبرکردوں گا۔بہرحال اس رات میں امیرالمؤمنین کی آہوں اور سسکیوں کی وجہ سے سو نہ سکا،میں نے ان سے پوچھا: امیر المؤمنین! آپ اتنے غمزدہ کیوں ہیں،کیاکوئی تکلیف پہنچی ہے؟فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس بصری شخص کے خواب کی تصدیق فرمادی ہے،میں نے خواب میں حضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حضرتِ سیِّدُناابوبکرصدیق اورحضرتِ سیِّدُناعُمَرفاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکےدرمیان یہ فرماتےسنا:’’اےعُمَربن عبْدُالعزیز! ہمارےہاں تمہارانامعُمَراَلْمَہْدِیاوراَبُوالْیَتَامٰیہےلہٰذاتم قوم کےسرداروں اورٹیکس لینےوالوں پراپناہاتھ سخت رکھنااوران دونوں کے راستے سےجُدا نہ ہونا ورنہ ہمارے راستے سے دور ہوجاؤ گے۔‘‘پھر آپ سسکیوں کے ساتھ روتے ہوئے فرمانے لگے: میں ان دونوں حضرات کے طریقے پر کیسے چل سکوں گا۔
تین نصیحتیں:
(7473)…حضرتِ سیِّدُناخالدبن دِینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّاراپنےوالدِماجدسےروایت کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنےحضرتِ سیِّدُنامَیْمُون بن مِہرانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانسےفرمایا:اُمَراکے پاس نہ جانا اگرچہ تم یہ کہو کہ میں انہیں بھلائی کا حکم دوں گا،اجنبی عورت کے ساتھ خَلْوَت اختیار نہ کرنااگرچہ تم یہ کہو کہ میں اسےقرآن کی تعلیم دوں گا اورجس نے اپنے والدین سےتعلق ختم کر دیااس کےساتھ ہرگز تعلقات قائم نہ کرنا کیونکہ جو اپنے باپ کانہ ہو سکا وہ تمہارابھی نہیں ہو سکتا۔
ظالِم کے طریقے پر مت چلو:
(7474)…حضرتِ سیِّدُناکثیربن دینارحِمْصیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنے عدی بن اَرْطَاَہ کو مکتوب بھیجاجس میں تحریرتھا:مجھےمعلوم ہواہےکہ تم حجاج کی روش پر چلتے ہو،اب اس کی روش پر نہ چلنا کیونکہ وہ نماز یں قضا کرتا ، جن پر زکوٰۃ نہ بنتی ان سے بھی زکوٰۃ لیتا اور اس کے علاوہ کئی احکامِ شرع کی خلاف ورزی کرتاتھا۔