عبْدُالعزیزکےپاس جاؤاورانہیں میراسلام دینےکےبعدیہ پیغام دیناکہ’’ہمارے ہاں تمہارانامعُمَراَلْمَہْدِی (ہدایت یافتہ عُمَر)اوراَبُوالْیَتَامٰی(یتیموں کاوالی)ہےلہٰذا قوم کےسرداروں اور ٹیکس وصول کرنےوالوں پراپنا ہاتھ سخت رکھنااوران دونوں(ابو بکر وعمر) کے راستے سے نہ ہٹنا ورنہ ہمارے راستے سے دورہو جاؤ گے۔ “اس کےبعداس کی آنکھ کھل گئی اورروتےہوئےکہنےلگا:رسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے اپنا قاصد بنایا ہے ،اگرآپ کا پیغام سخت تاریک راہوں میں ملتا تب بھی میں اسے نہ چھوڑتاپہنچادیتایامرجاتا۔لہٰذاوہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکےپاس”ملْکِ شام“ کی طرف روانہ ہوا،آپ اس وقت دیر سمعان میں موجود تھے، اس نے آپ کے دربان کے پاس جا کر کہا: امیرالمؤمنین سے میرے لئے اجازت طلب کرو اور کہو کہ میںرسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاقاصد ہوں،دربان نے اسے کم عقل سمجھ کر واپس کر دیا پھر وہ دوسرے دن آیا تودربان نے اس سے پوچھا:اےاللہعَزَّ وَجَلَّکے بندے! تو کون ہے؟اس نےکہا:میںرسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاقاصدہوں۔دربان کہنےلگا:یہ دیوانہ ہے،اس کےپاس عقل نہیں ہے۔جب اس نے تیسرے روز آکر اجازت مانگی تو دربان نے کہا:اےاللہعَزَّ وَجَلَّکےبندے!تو کون ہےاور کیا چاہتا ہے؟اتنا کہہ کروہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکے پاس گیااورعرض کی: امیرالمؤمنین!ایک شخص آپ سے اجازت مانگنےکےلئےبہت اصرارکررہاہے،جب میں نےاس سے پوچھا کہ توکون ہے؟ تو کہتاہے:میںرسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاقاصدہوں۔یہ سن کرامیرالمؤمنین نے اسےآنے کی اجازت دے دی،پوچھا:تم کون ہو؟عرض کی:میںرسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قاصد ہوں اوراپنا خواب بیان کرتےہوئے کہنے لگا:میں نےرسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس حال میں ملاقات کی کہ حضرتِ سیِّدُناابوبکرصدیق اور حضرتِ سیِّدُناعُمَرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاآپ کے دائیں بائیں موجود تھے،پھرپیغام پہنچایاکہ حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنےآپ کو حکم دیا ہے کہ ان دونوں کے راستے سے نہ ہٹنا ورنہ ہمارے راستےسےدورہوجاؤگے۔اس کی بات سُن کرآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:اس شخص کو اتنامال دےدو۔اس شخص نےعرض کی:میں آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاپیغام پہنچانےکےعِوَض ہرگز کوئی چیز نہیں لوں گا چاہے آپ اپنی پوری سلطنت ہی کیوں نہ دینا چاہیں۔یہ کہہ کروہ شخص روانہ ہوگیا۔