عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزعُلَما کو پڑھایا کرتے تھے۔
نعمت او ر علم کو کیسےمحفوظ کریں؟
(7455)…مَرثَدابُویَزیدکابیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزفرماتےہیں:اے لوگو! نعمتوں کو شکر کے ذریعے اور علم کو لکھ کر محفوظ کر لو۔
(7456)…حضرتِ سیِّدُنانُعیم بن عبدُاللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہےکہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزفرماتےہیں:میں فخروغرور کے خوف سے بہت سی باتیں چھوڑ دیتا ہوں۔
خلیفہ کےشب وروز:
(7457)…حضرتِ سیِّدُنامَیْمُون بن مِہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنبیان کرتےہیں:ایک مرتبہ میں نےحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزسےکہا:امیرالمؤمنین!میں نے آپ کو جس حال میں پایااس میں آپ زندہ کیسے ہیں؟ رات کے ابتدائی حصے میں لوگوں کی داد رسی کر رہے ہوتے ہیں، درمیانی حصے میں ہم نشینوں کے ساتھ ہوتے ہیں، رہا آخری حصہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اس وقت آپ کہاں ہوتے ہیں۔انہوں نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: میمون تم پر تعجب ہے!اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نےلوگوں سےملاقات کوتوان کی عقلوں کونتیجہ خیز بنانےوالاپایاہے۔
(7458)…حضرتِ سیِّدُناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتےہیں:ایک مرتبہ حضرت عُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزچادراوڑھےبیٹھےتھے،مَسْلَمَہ بن عبْدُالملک ان کےپاس آکرکہنےلگے:اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ پر رحم فرمائے!آپ نے ہمارے مردہ دلوں کو زندہ کردیااور نیک لوگوں کےذکر میں ہمیں بھی شامل کر دیا۔
وصال کے بعد استقبال:
(7459)…حضرتِ سیِّدُنالَیْث بن سَعْدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدفرماتے ہیں:ایک شامی شخص شہیدہوگیا،وہ ہر جمعہ کی رات اپنے والد کے خواب میں آ تااور باتیں کرکےان کا دل بہلاتا ، ایک مرتبہ وہ نہ آیا، جب اگلی مرتبہ آیا تواس کےوالدنےکہا:بیٹا!تم نےمجھےغمگین کیااورتمہارانہ آنامجھ پرگِراں گُزرا۔اس نےکہا:اباجان!شہیدوں کوحکم ہواتھاکہ عُمَربن عبْدُالعزیزکااِستقبال کریں،ہم ان کے استقبال کے لئے گئے ہوئے تھےجس کی وجہ سےمیں