Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
447 - 531
عُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے کسی حکومتی عہدےدارکوخط لکھاکہ میں تمہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرنے، میانہ روی اختیار کرنے،سنَّتِ رسول کی پیروی کرنےاورسنت کےمقابلےمیں نئےطریقےایجادکرنے والوں کے طریقوں کو ترک کرنےکی وصیت کرتاہوں۔ یہ لوگ سنت پرعمل کرنے سے عاجز ہو چکے،جان لو کہ کوئی بھی شخص کسی بدعت(نئےطریقے)کوجاری کرتا ہے تواس سے پہلےکوئی نہ کوئی ایساطریقہ ضرورگزراہوتاہےجواس بدعت کی پہچان کرواتاہےاوراس میں اس سےبچنےکی نصیحت ہوتی ہےتم پر سنَّتِ رسول کی اتباع لازم ہےکیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حکم سے  تمہارے لئے اس میں بچاؤ ہے۔یادرکھو!جس نے سنتوں کو رواج دیا وہ اس کی مخالف چیز یعنی خطا، لغزش،پیچیدگی اورحَماقَت کوجانتا تھا۔ سلف صالحین نے علم کے ذریعے ان چیزوں کو جان لیا اور بصیرتِ دینی کے ذریعے ان بدعتوں سے بچے رہے۔ راوی کا بیان ہے کہ اس کے علاوہ دیگر باتوں کا بھی ذکر کیامگرمیں یاد نہیں رکھ سکا۔
(7445)…حضرتِ سیِّدُناشِہاب بن خِراشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنے ایک شخص کومکتوب بھیجا،سلام کےبعدلکھا:سلف صالحین معاملات کو ہم سے بہتر سمجھتے تھے اگر بدعت میں کوئی فضیلت ہوتی تو وہ اسے رائج کرنے  کے زیادہ حق دار تھے کیونکہ وہ سبقت کرنے والے ہیں اوراگر ہدایت وہی ہے جس پر تم ہو تو تم اس میں ان پر سبقت لے گئے اور اگر تم کہو کہ بدعتیں ان کے بعد پیدا ہوئی ہیں تو جان لوکہ  انہیں جاری کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی راہ چھوڑ کر اور راہ اختیار کی اور ان سے منہ موڑ کے  اپنی فکر میں رہےجبکہ اسلاف نےدین میں ایسی گفتگوکی جوکافی ہے اور دین  کا جووصف بیان کیاوہ باعِثِ اطمینان ہے،جو کچھ ان کی بیان کردہ باتوں  سےکم ہے وہ ناقص ہےاور جواس سےزیادہ ہے وہ  جَسارت ہے،جن لوگوں نے  کمی کی انہوں نےظلم کیا،بعض نےاس میں زیادتی کی تو وہ غُلُو کاشکارہوئے جبکہ اسلاف ان کے درمیان ہدایت کی سیدھی راہ پر تھے۔ 
(7446)…حضرتِ سیِّدُناموسیٰ بن رَباحرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:مجھےکسی نے بتایاکہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزلوگوں کےسامنےآئےتوسلام کئےبغیربیٹھ گئےپھرانہیں یادآیا کہ سلام  نہیں کیا،لہٰذاکھڑےہوکرسلام کیاپھر بیٹھے۔