لَا یُرِیۡدُوۡنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا ؕ وَالْعٰقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیۡنَ ﴿۸۳﴾پ۲۰،القصص:۸۳)
جوزمین میں تکبُّرنہیں چاہتےاورنہ فساداورعاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔
آپ مسلسل یہ آیت دہرا تے رہے پھر خاموش ہو گئے،کچھ دیر بعد میں نے ان کے خادم وَصیف سے کہا:اندرجاکرامیرالمؤمنین کودیکھو۔اس نے اندرداخل ہوتے ہی چیخ ماری ،میں فوراً اندر گئی تو دیکھا کہ وہ قبلہ رو ہو کر ایک ہاتھ سے آنکھ بند کئے اور دوسرے کو منہ پر رکھےہوئے تھے (اور روح قَفَسِ عُنْصُری سےپرواز کرچکی تھی)۔
وقْتِ وصال بارگاہِ الٰہی میں عرض:
(7430)…حضرتِ سیِّدُنالیث بن ابُومَرقِیّہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ذکرکرتےہیں کہ جب حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز مرضُ الموت میں مبتلاہوئےتوفرمایا:مجھےاٹھاکربٹھادو۔جب آپ کولوگوں نے بٹھا دیا تو(بارگاہِ الٰہی میں)عرض کرنےلگے:میں وہ بندہ ہوں جسے تونے کسی بات کاحکم دیا تو اس نے کوتاہی کی اورکسی کام سے منع کیا تواس نے نافرمانی کی لیکن میرا ایمان ہے کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ پھرسر اٹھایا اورتیز نظروں سے اوپر دیکھنے لگے، لوگوں نے پوچھا:آپ اتنے غورسے کیا دیکھ رہے ہیں؟فرمایا: میں ایسوں کو دیکھ رہا ہوں جو نہ انسان ہیں نہ جن۔ پھر آپ کا انتقال ہو گیا۔
زمین کانور:
(7431)…حضرتِ سیِّدُناامام اَوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:میں حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکے جنازے میں حاضرہواپھروہاں سےقِنَّسْرین شہر گیا۔وہاں میراگزرایک راہب کے پاس سےہوا،وہ دوبیلوں یاگدھوں کوہانک رہاتھا،اس نےمجھ سےپوچھا:جناب!میراخیال ہےکہ آپ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکے جنازے سے آرہے ہیں؟ میں نے اِثبات میں جواب دیاتو اس نےنظریں جھکا لیں اوردھاڑیں مارکر رونے لگا۔میں نے پوچھا:تم کیوں رور ہے ہو؟تم تو اُن کے دین والےبھی نہیں ہو۔اس نے کہا: میں ان پرنہیں رو رہابلکہ اس نور پررو رہا ہوں جو زمین پر تھا اور اب بجھا دیا گیا۔
محفل کی شرائط:
(7432)…حضرتِ سیِّدُنااِمام اَوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز