جس کا تم پر حق ہو۔ میرےبیٹو !میں ایسےدوراہے پر کھڑا تھاکہ یاتو تم مال دار ہوجاتے اور میں جہنم کا ایندھن بن جاتایا تم ہمیشہ کے لئے فَقیر و محتاج ہوجاتے اور میں جنت میں چلا جاتا،میں نےپہلےکےمقابلےمیں دوسرا راستہ بہترجانا۔ جاؤ!اللہ عَزَّ وَجَلَّتمہارا حافظ و نگہبان ہو۔
مالِ وراثت:
(7423)…حضرتِ سیِّدُناعُمَربن حَفْص مُعَیْطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبیان کرتےہیں:میں نےحضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُ العزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکےصاحبزادےعبدالعزیزسےپوچھا:امیرالمؤمنین نےآپ کے لئے کتنا مال چھوڑا؟ تو انہوں نے مُسکرا کر فرمایا:والد محترم کا خرچ ہمارے ایک خادم کےپاس ہوتاتھااس نےمجھےبتایاکہ جب والد ماجد حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکاوقْتِ وفات آیاتومجھ سےپوچھا:تمہارے پاس کتنا مال ہے؟میں نے کہا: 14دینار۔فرمایا:تم ان کے ذریعےمیرےایک گھر(دنیا)سےدوسرے گھر(قبر)جانے کا انتظام کر لینا۔حضرتِ سیِّدُناحفص معیطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمزیدکہتےہیں:میں نےان کےصاحبزادےسےپوچھا: امیرالمؤمنین نے آپ کے لئےزمینوں کی کتنی آمدنی چھوڑی؟انہوں نے جواب دیا:زندگی بھرکی آمدنی 600دینارچھوڑی ہمیں ان کے مال سے ان کی سالانہ آمدنی کے300دیناراور300دینار ہمارے بھائی عبْدُالملک کے مال سے وراثت میں ملے۔ ہم میں12مرداورچھ خواتین ہیں ہم میں سے ہر ایک کو اس مال کا پندرواں حصہ ملا۔
مسلمانوں کاخیال:
(7424)…حضرتِ سیِّدُناابوبکربن نَوفَل بن فُراترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےوالدبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےجَعونہ بن حارث کومقامِمَلَطْیَہکی جانب سپہ سالاربناکربھیجا، جعونہ بن حارث نےوہاں حملہ کر کےمال غنیمت حاصل کیااوراس کی خبردینےکےلئےاپنےبیٹےکو امیرالمؤمنین کے پاس بھیجا،اس کے بیٹےنےامیرالمؤمنین کو خبردی توآپ نےپوچھا:کیا کسی مسلمان کانقصان ہواہے؟ عرض کی:نہیں البتہ ایک چھوٹےسےآدمی کانقصان ہوا۔امیرالمؤمنین نےغضبناک ہوکراسےدو مرتبہ کہا: چھوٹاآدمی!پھر فرمایا:تم ایک مسلمان کو نقصان پہنچاکرمیرے پاس گائے اوربکریاں لے آئے، میں جب تک زندہ ر ہوں گاتم باپ بیٹے کو کبھی کوئی عہدہ نہیں دوں گا۔