(7421)…حضرتِ سیِّدُناعُمارہ بن حَفْصہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزمرض الموت میں مبتلاہوئےتومَسلَمہ بن عبْدُالملک نےان کےپاس آکرپوچھا:آپ نے اپنے گھروالوں میں سے کس کے لئے وصیت فرمائی ہے؟آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےفرمایا:اگرمیںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی یاد سےغافل ہوجاؤں تومجھےیاددلانا۔مَسلَمہ بن عبْدُالملک نےپھرپوچھا: آپ نےاپنے گھروالوں میں سےکس کےلئےوصیت فرمائی ہے؟آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:میراوالیاللہعَزَّ وَجَلَّہےجس نےقرآنِ کریم نازل کیااور وہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے۔
اولاد کو وصیت:
(7422)…حضرتِ سیِّدُناہاشمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہےکہ جب حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزمرض الموت میں مبتلاہوئےتومَسْلَمَہ بن عَبدُالْمَلِک نےخدمت میں حاضرہوکرعرض کی: امیرالمؤمنین!آپ نے اپنی زندگی میں تو اپنی اولاد کے منہ تک یہ مال نہ پہنچنے دیا اور اب بھی انہیں خالی ہاتھ چھوڑے جا رہے ہیں،اگر ان کے بارے میں مجھےیاخاندان کےدیگرافرادکووصیت کرجائیں تومناسب ہوگا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:مجھےبٹھادو۔پھرکہا:مَسلَمَہ!تم نےجویہ کہاکہ میں نے اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے منہ تک یہ مال نہ پہنچنےدیا،خداگواہ ہےکہ میں نےاپنی اولادکاحق کبھی نہیں روکا،ہاں!میں نےانہیں وہ چیزیں نہیں دیں جو ان کاحق نہیں ہے،رہا تمہارایہ کہناکہ” اگر ان کے بارے میں مجھےیاخاندان کے کسی فرد کو وصیت کر جائیں‘‘تو ان کے لئےمیرا والی اورمددگاراللہعَزَّ وَجَلَّہےجس نےقرآنِ کریم اُتارااوروہ نیکوں کو دوست رکھتاہے۔میری اولادمیں دو ہی قسم کےآدمی ہوسکتےہیں:نیک یا بَد،اگر نیک ہے تو مجھے اس کی فِکرکرنےکی ضَرورت نہیں کیونکہاللہعَزَّ وَجَلَّاس کی تنگی و پریشانی دورفرمائےگااوراگروہ بَدہےتومیں مال دے کراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی پر اس کی مدد کیوں کروں۔
پھرآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےاپنےبیٹوں کو بلوایاجن کی تعداد10سےزائدتھی،آپ نےانہیں دیکھاتو آنسوؤں کی لڑی لگ گئی پھرفرمایا:ان جوانوں پر میری جان قربان جنہیں میں خالی ہاتھ چھوڑے جا رہاہوں اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِعَزَّ وَجَلَّ میں انہیں اچھی حالت پر چھوڑے جا رہا ہوں۔بیٹو! تمہیں ایسا کوئی عربی یا ذمی نہیں ملے گا