میں جب بیٹھاتھااس وقت بھی عُمَربن عبْدُالعزیزتھااورجب کھڑاہوااس وقت بھی عُمَربن عبْدُالعزیز ہی رہا، مہمان سے خدمت لینے والا شخص توملامت کامستحق ہے۔
خلیفَۂ وقت کی صوفیانہ زندگی:
(7419)…حضرتِ سیِّدُناعبدُاللہ بن عَمْرورَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکےایک بوڑھےمحافظ کابیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزجس وقت خلیفہ بنے اس وقت میں نے آپ کو حسین رنگت والا،عمدہ لباس والا اورخُوب رُو دیکھا، کچھ عرصے بعد جب میں آپ کی خدمت پر معمور ہوا تو آپ کی رنگت جل کر سیاہ ہو چکی تھی اورکھال ہڈیوں سےجا ملی تھی حتّٰی کہ آپ کی کھال اورہڈیوں کے درمیان گوشت باقی نہ بچا تھا اور آپ نے سفید ٹوپی پہن رکھی تھی جس پر روئی اکھٹی تھی جس سے معلوم ہوتا تھا کہ اسے دھویا گیا ہے ، وہ موٹی اوربوسیدہ چادر ڈالے ہوئےتھےجس کےبندنکلےہوئےتھےاورانہوں نےموٹاکپڑاپہناہواتھاجوزمین پرلگاہواتھااوراس کےنیچے جانورکےبالوں سے بنی ہوئی قطرانی عباپہن رکھی تھی۔آپ نے مجھےمقامِ رقّہ میں صدقہ کرنےکےلئےمال دیتےہوئے فرمایا:اسے صرف چلتی ہوئی نہر پر ہی تقسیم کرنا ۔میں نےکہا :اگر میرے پاس ایسا شخص آئے جسے میں نہ جانتا ہوں تو؟ فرمایا: جو بھی تمہاری طرف ہاتھ بڑھائے اسے دے دینا۔
(7420)…حضرتِ سیِّدُنامحمدبن کَعْبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ جب حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکوخلیفہ بنایاگیاتومیں مدینہ منورہ میں تھا،آپ نےمجھےپیغام بھیجا،جب میں خدمت میں حاضر ہواتوانہیں حیرت سےدیکھتاہی رہ گیاامیرالمؤمنین نےمجھ سےپوچھا:اےاِبْنِ کَعْب!آپ مجھے جس طرح دیکھ رہے ہیں اس سے پہلے تو کبھی ایسے نہیں دیکھا۔میں نے کہا:حیران ہوں۔ فرمایا: کیسی حیرانی ؟میں نے کہا: امیرالمؤمنین!آپ کی رنگت،جسمانی کمزوری اور بکھرے بالوں نے مجھے حیرانی میں مبتلاکردیا ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:اُس وقت تمہاری کیاکیفیت ہوگی اگرتین دن گزرنےکےبعدتم مجھےقبرمیں دیکھ لو، میری آنکھیں اُبل کر رُخساروں پر بہہ رہی ہوں گی اور میرے نتھنوں سے خون اور پیپ نکل رہا ہو گا۔اگر ایسےمیں مجھے دیکھ لو تو اور زیادہ شدت کے ساتھ مجھے پہچاننے سے انکارکروگے۔