Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
438 - 531
سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزسےعرض کی:میں نےآپ کےگھر والوں کے پاس کچی کھجوریں  دیکھی ہیں۔آپ نے مجھ سے پوچھا:کیایہ  انہیں کافی نہیں ہیں حالانکہ میں نے انہیں اپنے مال کے ساتھ مالِ غنیمت بھی دیا ہے؟میں نے عرض کی : یہ مال انہیں کیسے کافی ہو سکتا ہے؟جبکہ یہ  اپنے اہْلِ خانہ پر خرچ کرتے ہیں،مہمان نوازی  کرتے ہیں،بیویوں کے نان نفقہ اورلباس ان کے ذمےہیں۔خداعَزَّ  وَجَلَّکی قسم!مجھےان کےفاقےمیں پڑنے کااندیشہ ہے۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:میرانفس خواہشات کابڑا خُوگَرتھا،مجھے یاد ہےکہ  میں مدینےکےلڑکوں کےساتھ رہتاتھاپھر مجھے عربی زبان اورشعرمیں مہارت  حاصل کرنےکی خواہش ہوئی تو میں نے اپنی خواہش پوری کرلی،اس کےبعدمجھےحکومت کی خواہش ہوئی تومجھےمدینے کا گورنربنادیا گیا،اس دوران مجھےخوش لباس اور  خوشگوار زندگی کی خواہش ہوئی ، میرا نہیں خیال کہ میرے گھر والوں یا ان کے علاوہ کوئی اورمیری مثل ہو۔آخرکارمیرے نفس کو آخرت سنوارنے اور عدل و انصاف  کی فکر لاحق ہوئی اوراب مجھے امید ہے کہ جس آخرت کے معاملے کی فکر میرے نفس کو ہوئی ہے میں وہ بھی پالوں گا،میں اس کی مثل نہیں جو اپنی آخرت کو گھر والوں کی دنیا کی خاطر ہلاک کر دے۔
مہمان سےخدمت لیناملامت ہے:





(7417)…حضرتِ سیِّدُنارَجاء بن حَیْوَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان  کرتے ہیں کہ ایک رات میں حضرتِ سیِّدُناعُمَر بن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکےساتھ مَحْوِگفتگوتھا،چراغ بجھنےلگاتومیں اسے درست کرنے کےلئے اٹھا، آپ نےمجھے بیٹھنے کا کہااور خود اٹھ کرچراغ درست کیااورواپس آکر بیٹھ گئےپھرفرمایا:میں جب بیٹھاتھااس وقت بھی عُمَربن عبْدُالعزیزتھااورجب کھڑاہوااس وقت بھی عُمَربن عبْدُالعزیزہی رہا،مہمان سے خدمت لینے والا شخص  توملامت کامستحق ہے۔
(7418)…حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکےبیٹےحضرتِ سیِّدُناعبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز بیان کرتےہیں:مجھےحضرتِ سیِّدُنارَجا٫ بن حَیْوَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےبتایاکہ میں نے تمہارے والدسے زیادہ کامل عقل والا انسان نہیں دیکھا، ایک رات میں ان کےساتھ مَحْوِگفتگوتھاچراغ بجھنےلگاتومیں اسے درست کرنے کےلئےاٹھا،آپ نےمجھے بیٹھنے کا کہااور خود اٹھ کرچراغ درست کیااورواپس آکر بیٹھ گئے پھرفرمایا: