(۱۱)…جو آپ کو اپنا ولی سمجھتا ہے اس کے والد کی عدم موجودگی میں آپ اس کی کفالت اس طرح فرماتے ہیں جیسے پرندہ اپنے اس بچےکی کفالت کرتا ہے جواپنے گھونسلے میں کھڑا ہو سکتا ہے نہ اڑسکتا ہے۔
(۱۲)…آپ نے ان بیواؤں کی حاجتوں کو تو پوراکردیالیکن جس کی بیوی مرچکی ہواس کی ضرورت کون پورا کرے گا۔
اس کےاشعارسن کر حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکی آنکھوں سےآنسوجاری ہو گئے اورفرمانےلگے:تم تو اپنی کوشش کا بیان کر رہے ہو۔جریر نے کہا:جو چیز آپ اورمجھ سے پوشیدہ ہے وہ اس سے زیادہ سخت ہے۔توآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےحجاز کےفُقَرا کے لئے غلہ ،کپڑےاورنَقدی سمیت ایک قافلہ بھیجنےکاحکم دیااورجَرِیرسےپوچھا:تم کس گِروہ سےتعلق رکھتےہو؟مہاجرین سےیااَنصارسےیااُن کےاَعِزا واَقرِباسےیامُجاہِدین سےیاان میں سےہوجنہوں نےاس غنیمت پرمُزاحمت کی اورمسلمانوں کے دشمنوں پر حملہ کیا؟اس نےکہا:میں ان میں سےکسی سےبھی نہیں ہوں۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:تومیں مسلمانوں کےاس مال میں تمہاراکوئی حصہ نہیں سمجھتا۔اس نےکہا:اللہعَزَّ وَجَلَّنےاپنی کتاب میں میراحق مقرر فرمایا ہےاگرچہ آپ نہ دیں۔ آپ نےفرمایا:تمہاری خرابی ہو! تمہاراکون ساحق ہے؟ اس نے کہا:میں مسافر ہوں۔دُوردرازسے سفرکر کے آپ کے دروازے پرآکرٹھہرا ہوں۔آپ نےفرمایا: اچھا!تب تومیں تمہیں اپنے مال سےدوں گاپھراپنے وظیفے میں سےبچے ہوئے20درہم منگوائےاوراسےدےکرفرمایا:یہ میرے وظیفے میں سے بچنے والےدرہم ہیں اور مسافرکو اپنے ہی مال سے دیا جا سکتا ہے،اگراس سے زیادہ بچ جاتے تووہ بھی دے دیتا۔اسے لے لواورچاہوتو اچھے لفظوں میں یادکرویامذمت کرو۔ اس نے کہا:امیرالمؤمنین!میں تو آپ کی مدح کروں گا۔جب وہ دربارِخلافت سےباہرنکلاتودوسرےشعرانےبےتابی سے پوچھا:ابوحَرزَہ! معاملہ کیسا رہا؟جَرِیرنے جواب دیا: ’’اپناراستہ ناپو کیونکہ میں ایسےشخص کےپاس سےآرہاہوں جوشُعَراکو نہیں فقیروں کودیتاہے۔‘‘ پھر یہ شعر کہا:
وَجَدْتُ رُقَى الشَّيْطَانِ لَا تَسْتَفِزُّهٗ وَقَدْ كَانَ شَيْطَانِیْ مِنَ الْجِنِّ رَاقِيًا
ترجمہ:میں نے دیکھا کہ شیطان کا مَنْتَر ان پر اثر نہیں کرتاحالانکہ میرا شیطان جن ان پر منتر پڑھ رہا تھا۔
(7402)…حضرتِ سیِّدُناعُمَر یعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزرَحْمَۃُ اللہِ