Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
431 - 531
عُلَماوفُقَہاء اوروہ لوگ تھے جنہیں  متقی سمجھا جاتا تھا،یہ حضرات اَطراف سے بلائے جاتے تھے۔ ایک دن اِتِّفاقًا جریرشاعرنےحضرتِ سیِّدُناعَون بنعبدُاللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوآتےدیکھا،آپ بڑےمتقی،پرہیزگاراور فقیہ عالِمِ دین تھےنیز گفتگومیں حَسَن بن ابُوالحسن کی طرح  فصیح وبلیغ تھے،جریر نے دیکھاکہ آپ عُمَربن عبْدُ العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکی خدمت میں پاجامہ ٹخنوں سے اوپرپہنےاورسرسےچپکی کان کی لوتک بڑھی ہوئی زلفوں پر عمامہ باندھے اوراس  کاشِمْلہ آگے لٹکائے  ہوئے آئے تو اس نے اپنی ناقدری کا اِظہار اِن اَشعار میں کیا:
يَا اَيُّهَا الْقَارِئُ الْمُرْخِیْ عِمَامَتَهُ		هَذَا زَمَانُكَ اِنِّیْ قَدْ مَضٰى زَمَنِیْ
اَبْلِغْ خَلِيفَتَـنَا اِنْ كُنْتَ لَاقِيْهِ		اَنِّیْ لَدَى الْبَابِ كَالْمَشْدُوْدِ فِیْ قَرْنِیْ
	ترجمہ:اے عمامےکا شملہ لٹکاکر رکھنےوالے عالِم!یہ تمہارا زمانہ ہے، میرا زمانہ گزر گیا۔اگر ہمارےخلیفہ سے ملاقات ہو تو انہیں پیغام پہنچادیناکہ میں دروازے پربیڑیوں میں جکڑے شخص کی طرح پڑا ہوں۔
	حضرتِ سیِّدُناعون بنعبدُاللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:تم کون ہو؟اس نے کہا:جریرہوں۔آپ نے فرمایا:میری عزت تم پرحلال نہیں ہے (یعنی میری ہَجْو کر کے مجھے رسوا نہ کرنا)۔اس نے کہا: آپ میرا ذکرخلیفہ سے کیجئے گا۔آپ نے فرمایا:اگر موقع ملا توکردوں گا۔پھر حضرتِ سیِّدُناعون بن عبدُاللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکےپاس گئے،انہیں سلام کیا،اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حمد و ثنا کی پھر کچھ گفتگو اور نصیحت کے بعد کہا:جریر شاعر دروازے پر کھڑا ہے، آپ اس سے میری عزت بچا لیجئے۔حضرتِ سیِّدُناعُمَر بن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے اسے اندر آنے کی اجازت دے دی۔ اس نے حاضر   ہو کر عرض کی:امیرالمؤمنین!مجھےپتہ چلاہےکہ آپ نصیحت آموزکلام پسندکرتےہیں،پُرتفریح کلام پسندنہیں کرتے، آپ مجھے کچھ کہنےکی اجازت دیجئے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اسے اجازت دی تو اس نے یہ اشعار کہے: 
لَجَّتْ اُمَامَةُ فِیْ لَوْمِیْ وَمَا عَلِمَتْ		عَرْضُ الْيَمَامَةِ رَوْحَاتِیْ وَلَا بَكْرِیْ
مَا هَوَّمَ الْقَوْمُ مُذْ شَدُّوْا رِحَالَهُمْ		اِلَّا غِشَاشًا لَّدٰى اِعْضَادِهَا الْيُسَر
يَصْرُخْنَ صَرْخَ خَصِیِّ الْمَعْزَاءِ اِذْ		وَقَدَتْ شَمْسُ النَّهَارِ وَعَادَ الظِّلُّ لِلْقَمَر
زُرْتُ الْخَلِيفَةَ مِنْ اَرْضٍ عَلٰى قَدَرٍ		كَمَا اَتٰى رَبَّهٗ مُوسٰى عَلٰى قَدَر