تھے، ان تحائف میں تقریباً پانچ چھ سورِطل عنبر اور بہت ساری مشک بھی شامل تھی۔ خدام نے وہ تحفے لے کر ان کی خدمت میں پیش کردئیے،وہاں مشک کی خوشبو پھیل گئی۔حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنے ناک پرآستین رکھ کرغلام سےکہا:اسےیہاں سے اٹھا لو کیونکہ اس خوشبو سے نفع اٹھایا جا رہا ہے۔پھرفرمانےلگے:اےابوایوب!(یہ سلیمان بن عبْدُالملک کی کنیت ہے)اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے، اگر آپ زندہ ہوتے تو اس میں ہمارا بڑا حصہ ہوتا۔چنانچہ اس خوشبو کو وہاں سے اٹھا لیا گیا۔
(99-7398)…حضرتِ سیِّدُناربیعہ بن عطا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن عبْدُ العزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکے پاس یمن سےعنبر لایاگیا تو آپ نے ناک پر کپڑا رکھ لیا،مُزاحِم نےعرض کی: امیرالمؤمنین!یہ توفقط اس کی خوشبو ہے۔آپ نے فرمایا: مُزاحم تم پرافسوس ہے!خوشبو کا نفع اسے سونگھنا ہی تو ہے۔راوی بیان کرتے ہیں: آپ ہاتھ ناک پر رکھے ہی رہے حتّٰی کہ عنبر کو وہاں سےاٹھا لیا گیا۔
نبی کریمصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکےتبرکات:
(7400)…حضرتِ سیِّدُنامحمدبن مُہاجرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَادِربیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُ العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکےپاس حضورنبیّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی چارپائی،عصائے مُبارَک،پانی پینے کاپیالہ، بڑا پیالہ، کھجور کی چھال سے بھرا ہواتکیہ ،کمبل اور چادرتھی۔جب آپ کے پاس قریش کی کوئی جماعت آتی تو ان سےفرماتے:یہ اس بابرکت ذات کےتبرکات ہیں جن کےوسیلےسےاللہ عَزَّ وَجَلَّنےتمہیں عزت بخشی، تمہاری مدد کی،تمہیں مُسْتحکَم کیا اور فلاں فلاں نعمتیں دیں۔
شعراآپ کے دروازے پر:
(7401)…حضرتِ سیِّدُناحُذیفہ بن بَدربن سَلَمَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ جب حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزخلیفہ بنےتوحسْبِ معمول حجازاورعِراق کے شُعرانےان کےدربارکا رُخ کیا اور بڑے بڑے شُعَرامثلاً نُصَیب،جَرِیر،فَرَزدَق،اَحوَص،کُثَیراور حجاج قضاعی وغیرہ آئےاورمہینہ بھرقیام کیا لیکن انہیں محفل میں داخلے کی اجازت نہ ملی حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکو ان شعرا کی کسی نصیحت یابصیرت سے کچھ واسطہ نہیں تھا،آپ کے نزدیک اہْلِ نصیحت و بصیرت،ہم نشیں اوروزیر ومشیر