رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزفرماتےہیں:اگربروزِقیامت دنیاکی تمام قومیں خبیث لوگوں کا مقابلہ کریں، ہرقوم اپنے اپنے خبیث کو مقابلے میں لائے تو ہم حجاج بن یوسف کو پیش کرکے سب پر غالب آجائیں گے۔
(7395)…حضرتِ سیِّدُنااِمام اَوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنے خط لکھا کہ یہودونصارٰی کومسلمانوں کی مسجدمیں داخل ہونےسےروکواوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کےاس فرمان پر عمل کرو:
اِنَّمَا الْمُشْرِکُوۡنَ نَجَسٌ فَلَایَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا ۚ (پ۱۰،التوبة:۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان: مشرک نرے(بالکل) ناپاک ہیں تواس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں۔
خط میں یہ بھی لکھا کہ تیراندازوں کا صبح وشام نشانے بازی کرنا مسجد کی تعمیر ہےاور یہ لکھا کہ جس نے جھگڑوں کے لئے اپنے دین کو نشانہ بنایا تو وہ زیادہ تر اسی کام میں مصروف رہے گا۔
احیائے سنت کا جذبہ:
(7396)…حضرتِ سیِّدُناعَون بن معتمررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُ العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنے(جب اپنےبیٹےکو دفنایا تو) ایک شخص کو بائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے دیکھ کرفرمایا:سنو!جب گفتگو کرو تو بائیں ہاتھ سے اشارہ نہ کیا کروبلکہ دائیں ہاتھ سے اشارہ کیا کرو۔اس شخص نے کہا:میں نے آج تک ایسا نہیں دیکھاکہ کسی نے اپنے عزیز ترین کو دفن کیا اوراس (غم)کے باوجود وہ میرے بائیں کے بجائے دائیں ہاتھ کو اہمیت دینے کی نصیحت کر رہاہو۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:جباللہ عَزَّ وَجَلَّ کوئی چیز واپس لے لے تواس کی یاد میں نہیں پڑنا چاہئے۔
ناک کیوں بند کی؟
(7397)…حضرتِ سیِّدُناحَیّان بن نافع بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبیان کرتےہیں کہ حضرتِ سیِّدُناعُروہ بن محمدسعدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِینےمجھےسُلیمان بن عبْدُالملک کےپاس کچھ تحفوں کےساتھ بھیجا،وہ مقام دابق میں تھا، ہمارے پہنچنےسے قبل وہ مر چکا تھا اور حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کو خلیفہ بنایا دیا گیا تھا، ہم ان کے پاس گئے اورانہیں اسی طرح تحائف پیش کئےجس طرح سلیمان بن عبْدُالملک کوپیش کرتے