Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:5)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
427 - 531
سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز  مقام سُوَیدا٫ میں تھے، میں نے عشا٫ کی اذان دی تو آپ نماز پڑھ  کر ایک کشادہ مکان میں تشریف لےگئے،تھوڑی دیر اندر رہنے کے بعد باہر تشریف لائے اور دومختصر رکعتیں اداکیں پھراِحْتِبا(1) کی حالت میں بیٹھ گئے اور سورۂ اَنفال کی تلاوت کرنےلگےاوراسے بار باردُہراتے رہے، جب بھی کوئی خوف دلانےوالی آیت پڑھتےتوگڑگڑانےلگتےاورجب بھی کوئی رحمت والی آیت پڑھتےتودعا کرنےلگتے۔یہ سلسلہ جاری رہا حتّٰی کہ میں نے فجر کی اذان دی۔
نیک لوگوں کے ساتھ مرنے کی تمنا:
(7388)…حضرتِ سیِّدُناطلحہ بن یحییٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں:میں حضرتِ سیِّدُناعُمَربن عبْدُ العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکےپاس بیٹھاتھاکہ حضرت عبْدُالاعلیٰ بن ہِلالرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہآکرکہنےلگے:امیرالمؤمنین! جب تک آپ کی زندگی ہےاللہ عَزَّ  وَجَلَّآپ کوتندرست رکھے۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:اےابونضر! تقدیرکافیصلہ توہوچکااب یوں کہو:اللہ عَزَّ  وَجَلَّآپ کوپاکیزہ زندگی اورنیکوں کےساتھ موت عطا فرمائے۔
خلافت سے پہلے اورخلافت کے بعد:
(7389)…علی بن بَذِیمہ کابیان ہے:جب میں نےحضرتِ سیِّدُناعُمَر بن عبْدُالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکو مدینہ منورہ میں دیکھا اس وقت آپ سب سے عمدہ لباس پہنتے، سب سے اعلیٰ خوشبو لگاتے اور سب سے زیادہ اِتراکرچلتےتھےپھر(خلیفہ بننے کے بعد) میں نے انہیں راہبوں(دنیاوی نعمتوں سے کنارہ کش  رہنےوالے شخص) کی طرح چلتے دیکھا۔حضرت سیِّدُناعُمَربن عبْدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکایہ معاملہ دیکھنےکےبعداگرکوئی تم سے کہےکہ چال توطبیعت میں شامل ہوتی ہے(یعنی بدل نہیں سکتی)تواس کی تصدیق نہ کرنا۔
(7390)…حضرتِ سیِّدُناغیلان بن میسرہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسےمروی ہےکہ ایک شخص نےحضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبْدُ العزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز  کی خدمت میں حاضرہوکرعرض کی:میں نے کھیتی باڑی کی، شامیوں کا ایک لشکر وہاں سےگزراتوانہوں  نے میرا کھیت خراب کر دیا۔ اس کی عرضی سن کر  آپ نے اس کے بدلے اسے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…احتبا کی صورت یہ ہے کہ آدمی سرین کو زمین پر رکھ دے اور گھٹنے کھڑے کرکے دونوں ہاتھوں سے گھیر لے اور ایک ہاتھ کو دوسرے سے پکڑ لے اس قسم کا بیٹھنا تواضع اور انکسار میں شمار ہوتا ہے۔(بہارشریعت،حصہ۱۶، ۳/ ۴۳۲)